خطبات محمود (جلد 16) — Page 393
خطبات محمود ۳۹۳ سال ۱۹۳۵ء ظاہری طاقت وقوت پر فخر کرتے تھے تم جو اپنے جتھے اور اپنی جماعت کی شہہ پر خدا کے پاک بندوں کو دُکھ دینے پر تلے ہوئے تھے ، آؤ! اور اب میرے غضب سے اپنے آپ کو اور اپنے حوالی موالی کو بچاؤ۔پھر وہ لوگ خدا تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بن کر ایسے نَسيا منسيا ت ہو جاتے ہیں کہ کوئی ان کا نام لینے والا دنیا میں باقی نہیں رہتا۔اب میں چاہتا ہوں کہ چونکہ ہم نے لوگوں پر حجت قائم کر دی ہے، حکومت پر بھی حجت کر دی ہے اور رعایا پر بھی، پھر ہم نے ان کی ہدایت کے لئے دعائیں بھی کی ہیں اور پورے طور پر انہیں سمجھانے کی کوشش کی ہے مگر ہماری کوئی بات نہیں سنی گئی۔ہماری جائدادوں پر دن دھاڑے قبضہ کیا جاتا ہے۔حکومت کے نمائندے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں مگر حکومت خاموش ہے یا تو اس تک رپورٹیں غلط کی جا رہی ہیں یا وہ کسی مصلحت سے ان مفاسد کی اصلاح نہیں کرنا چاہتی۔بلکہ جب اس کے مقامی نمائندوں کو توجہ دلائی جاتی ہے تو مالکوں اور قبضہ رکھنے والوں سے کہا جاتا ہے کہ اگر تمہارا ان جائدادوں پر حق ملکیت ہے تو جاؤ عدالتیں کھلی ہیں ان میں نالش کر دو حالانکہ دنیا کی کسی حکومت میں یہ دستور نہیں کہ زمینوں کے مالک اور قابض خود عدالتوں میں جائیں اور وہ جو ظالمانہ طور پر کسی کی زمین پر قبضہ کر رہے ہوں حکومت ان کی مدد کرتی چلی جائے۔ہر مہذب اور قانون کی پابند گورنمنٹ کا فرض ہوتا ہے کہ وہ حملہ آوروں کا مقابلہ کرے اور زمین کے مالکوں کو ظلم اور بے انصافی کا شکار ہونے سے بچائے۔مگر ہمارے ساتھ نمائندگان حکومت کی طرف سے بالکل الٹ سلوک کیا گیا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی کو اس کے حق سے محروم رکھا جائے بلکہ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ جو انصاف ہے وہ عمل میں لایا جائے۔برطانوی حکومت میں سے اور کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں اس قسم کا اُلٹ قانون برتا جاتا ہو صرف ہم ہی ہیں کہ ہم جو یہاں کی زمینوں کے مالک یا قابض ہیں ہمیں عدالتوں کی طرف جانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور جو حملہ کر کے آتے ہیں انہیں نہیں مجبور کیا جاتا کہ اگر ان کا کوئی حق ہے تو وہ عدالت میں جا کر ثابت کریں۔ہم اپنے مخالفوں کو بھی یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنے حق چھوڑ دیں۔بے شک جس زمین پر ان کا حق ہے وہ اس حق کو عدالت میں ثابت کر کے حاصل کریں ہمیں ان حقوق کے ادا کرنے میں کوئی عذر نہ ہوگا۔ہم تو ان سے اور حکومت سے صرف اس چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جس پر ساری برطانوی حکومت میں عمل کیا جاتا ہے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں یہ دستور نہیں کہ کسی زمین پر جب کوئی فریق زبر دستی قبضہ جمانا چاہے تو حکومت کی