خطبات محمود (جلد 16) — Page 389
خطبات محمود ۳۸۹ سال ۱۹۳۵ء اس قسم کی بددعا کو اسلام جائز قرار نہیں دیتا۔یہ تمسخر ہے اور شرعی رو سے ممنوع بلکہ ذاتیات کے لحاظ سے تو سوائے اس کے کہ کسی کی عزت پر کوئی حملہ کر دے اور کسی صورت میں بددعا جائز نہیں ہو سکتی۔اگر کوئی کسی کی عزت پر حملہ کرے تو چونکہ اس حملہ کا اس کے خاندان اور آئندہ آنے والی نسلوں تک اثر جاتا ہے اس لئے اگر وہ تمام ذرائع کو استعمال کر چکے تو اسے شرعی طور پر اجازت ہے کہ وہ الزام لگانے والے کے لئے بد دعا کرے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق لکھا ہے۔غرض جب کوئی اخلاقی مجرم عائد ہو تو جس پر اخلاقی جرم عائد کیا جائے ، اس کا حق ہے کہ اصلاح کے تمام ذرائع کو استعمال کرنے کے بعد وہ اسے مباہلہ کے لئے بلائے اور اس کے لئے بددعا کرے۔بعض بیوقوفوں نے اس بات کو بالکل الٹ سمجھا ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ الزام لگانے والے کو مباہلہ کا چیلنج دینے کا حق ہے حالانکہ اسلام نے یہ حق مظلوم کو دیا ہے نہ کہ ظالم کو کہ وہ خواہ مخواہ اور زیادہ گند اُچھالے۔باقی دینی معاملات میں انسان کو چاہئے کہ وہ پہلے دعا کرے اور ایک عرصہ تک اس دعا کی قبولیت کا انتظار کرے لیکن جب وہ دیکھے کہ معاملہ اپنی انتہاء کو پہنچ گیا اور وہ سمجھ لے کہ اب دشمن کا وجود خدا کے دین کے لئے مضر ہے تو وہ دعا مانگے کہ اے خدا ! میں اب بھی یہی خواہش رکھتا ہوں کہ تو اس پر رحم کر اور اسے ہدایت دے لیکن دین چونکہ بہر حال مقدم ہے اس لئے اے میرے رب ! اگر اس کے لئے ہدایت مقدر نہیں تو تو اسے تباہ کر دے۔یہ بددعا ہے جو جائز ہے اور جس کے مانگنے میں کوئی حرج نہیں۔میں نے جب یہ دعا سکھائی تھی کہ اَللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ شُرُورِهِم تو اُس وقت بھی اس کے ترجمہ میں میں نے ایسا پہلو رکھا تھا کہ بددعا کی صورت نہ بنے لیکن اب خدا تعالیٰ نے مجھے یہی سمجھایا ہے کہ جہاں اسلام کی عزت کا سوال ہو وہاں مومنوں سے ایسی بددعائیں امتحان کے طور پر بھی کرائی جاتی ہیں جیسے جنگ کے موقع پر ایک کمزور آدمی بھی تلوار پکڑ لیتا ہے اسی طرح روحانی جنگ کے موقع پر نرم سے نرم دل مؤمن کے لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے دل کو سخت کر کے دشمنوں کے لئے بددعا کرے اور خدا تعالیٰ سے درخواست کرے کہ وہ اپنے قہر سے دشمنوں کو ہلاک کر کے اپنے دین کی غیر معمولی نصرت و تائید فرمائے۔پس ان خیالات کے اظہار کے