خطبات محمود (جلد 16) — Page 382
خطبات محمود ۳۸۲ ۲۵ سال ۱۹۳۵ء مظلومیت کی پکار بدرگاہ کردگار (فرموده ۵ / جولائی ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں نے اپنے ایک گزشتہ خطبہ جمعہ میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ بددعا کے متعلق میرے خیالات میں کچھ تبدیلی ہوئی ہے۔میں آج اسی کے متعلق اپنے گزشتہ اور موجودہ خیالات کو کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔قرآن کریم میں بعض انبیاء کے منہ سے نکلی ہوئی بددعائیں اللہ تعالیٰ نے نقل فرمائی ہیں۔مثلاً حضرت نوح علیہ السلام کی زبان سے ایک دعا یہ بیان فرماتا ہے کہ رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا یعنی اے خدا زمین پر کفار میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑ اور جب آدمی نہ رہے تو بستیاں بھی نہ رہیں۔گویا سب دنیا کو کفر کے نقطہ نگاہ سے ویران کرنے کی بددعا کی ہے۔اسی طرح کی اور کئی بددعائیں ہیں۔جو بعض ممالک یا شہروں کے متعلق قرآن کریم یا دوسری کتب سماویہ یا رسول کریم ﷺ کے حالات سے ثابت ہوتی ہیں جیسا کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے دعا کی کہ خدایا! ان کفار کو ویسے ہی سالوں سے پکڑ جیسا تو نے حضرت یوسف علیہ السلام کی قوم کو پکڑا تھا کے یعنی جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں مصر والوں پر قحط کا عذاب اُتر ا اُسی طرح یہاں بھی قحط پڑے اور لوگ بھوک کے عذاب میں مبتلاء ہوں۔میں ان تمام حالات کو دیکھ کر یہ سمجھا کرتا تھا کہ اس قسم کی بددعا الہی اذن سے ہوا کرتی ہے۔