خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 377

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء وہ معنی دینا جو صحیح نہیں اور جن سے سب انبیاء پر اعتراض آتا ہے سخت بے انصافی اور مذہب میں صریح دست اندازی کے مترادف ہے۔جو بات کہنے کا ہمیں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے اسے ہم کسی کے ڈر سے نہیں چھوڑ سکتے۔اگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ کہہ دے تیرا دشمن ہلاک ہوگا تو ہم یہ کہنے سے کبھی نہیں رُک سکتے۔پس میں پھر وہ باتیں دُہراتا ہوں اور پھر یہ کہتا ہوں کہ جو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابل پر کھڑا ہو گا وہ تباہ کر دیا جائے گا۔اگر حکومت اسے قتل کی تحریک سمجھتی ہے تو مجھے پکڑ لے گرفتار کر لے اور مقدمہ چلائے۔لیکن وہ سمجھ لے کہ وہ ایسا کرنے میں آسمانی بادشاہت کی مجرم ہوگی۔جیسے وہ افسر جو اپنے سے بڑے افسر کے پیغام کو روکنا چاہتا ہے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں ایک بات کہے اور ہم اسے چھپائیں سوائے اس کے کہ وہ خود ان کے اظہار سے روک دے۔انذاری پیشگوئیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک تو اصولی مثلاً ایک تو یہ کہ ہمارے دشمن تباہ ہو جائیں گے اسے تو ہم کسی صورت میں نہیں چھپا سکتے کیونکہ یہ تو صداقت کا نشان ہے اور یہ قرآن کریم کی اس آیت کا ترجمہ ہے کہ كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِی۔اگر اسے چھپائیں تو نبوت ثابت ہی نہیں ہوسکتی۔حکومت کے احکام ہم اُسی وقت تک مانتے ہیں جب تک وہ خدا کے احکام سے نہ ٹکرائیں۔اگر ایسا ہو کہ حکومت کے احکام خدائی احکام کے ساتھ ٹکرائیں تو اس صورت میں ہم خدا کے احکام مانیں گے، اس کے کیوں مانیں جو خدا کی غلام ہے۔میں سمجھتا ہوں ہر دیانتدار ہندو ، پارسی ،سکھ ، مسلمان یہی کہے گا کہ ہم حکومت کے اُسی دن تک فرماں بردار ہیں جب تک وہ خدا کے مقابل پر کھڑی نہیں ہوتی اور جو حکام خواہ مخواہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے مقابل پر لا کھڑا کرتے ہیں وہ سخت نادانی کرتے ہیں۔کوئی وجہ نہیں کہ دنیوی حکومتیں اس بات سے ڈریں کہ خدا کی حکومت دنیا میں قائم ہو بلکہ انہیں خوش ہونا چاہئے کہ اس سے دنیا میں امن قائم ہو گا۔ہاں عارضی جھگڑے ہوں تو بے شک ہوں اور ایسا ہونا ضروری ہے کیونکہ اکثریت نبی کی اتباع کرنے والی اقلیت کی روحانی طاقتوں کو دیکھ کر غصہ میں آ جاتی ہے اور اسے مٹانا چاہتی ہے۔حکومت کا یہ کام ہے کہ وہ انصاف سے کام لے کر اقلیت کی مدد کرے نہ یہ کہ اکثریت سے ڈر کر اقلیت پر ظلم کرنے لگے۔غرض اس قسم کے فساد کو کوئی نہیں روک سکتا۔جب کوئی نیا سلسلہ قائم ہوتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں گند ہو وہ اسے تباہ کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس سے کچھ عارضی فساد بھی پیدا ہوتے ہیں ورنہ دنیا میں آسمانی حکومت کے قیام سے امن ہی بڑھتا