خطبات محمود (جلد 16) — Page 367
خطبات محمود ٢٤ سال ۱۹۳۵ء انداری پیشگوئیاں مذہب کا حصہ ہیں مذہب میں مداخلت کو ہم ہرگز برداشت نہیں کر سکتے فرموده ۲۸ / جون ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- شخص دنیا میں بہت سے جھگڑے اور اختلافات غلط فہمیوں کی وجہ سے پیدا ہو جاتے ہیں ایک موی دوسرے کے نقطہ ء نگاہ کو نہیں سمجھتا اور کچھ کا کچھ اس کی نسبت خیال کرنے لگ جاتا ہے اس لئے جن لوگوں کو دوسروں سے تعلقات رکھنے اور دوسروں سے معاملات پڑتے ہوں ، ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کے خیالات کو اچھی طرح سمجھ لیں جن سے ان کے معاملات پڑتے ہیں۔مثلاً مناظر ہیں جن علماء کو دوسری قوموں سے مناظرے کرنے پڑتے ہیں ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان مذاہب کے خیالات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔اسی طرح حکومتوں کے لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ رعایا کے خیالات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔اگر علماء دوسرے مذاہب کو سمجھے بغیر انکے پیروؤں کے ساتھ مناظرے کریں یا ان کے خلاف کتب لکھیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مخالف ان کی باتوں پر مذاق اور جنسی اُڑائیں گے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ نے ایک خدا کا اعلان کرنا شروع کیا تو مکہ کے لوگوں نے بجائے اس کے کہ توحید کے متعلق آپ کے نقطہ ء نگاہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے جھٹ خیال کر لیا کہ خدا تو کئی ہیں اس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں محمد ( ﷺ ) بھی ضرور ( نَعُوذُ بِاللهِ ) کئی خدا ہی مانتے ہو نگے اور انہوں نے خیال کیا کہ آپ کا نقطہ ء نگاہ یہ ہے کہ آپ نے سب خداؤں کو جمع کر