خطبات محمود (جلد 16) — Page 364
خطبات محمود ۳۶۴ سال ۱۹۳۵ء ہیں کہ ہمارے لئے یہ حالت ناقابلِ برداشت ہو رہی ہے اگر تمہارے لئے یہ بات ناقابلِ برداشت ہے تو میں تم سے کہتا ہوں تم جاؤ اور جھوٹ کو مٹا کر بیچ قائم کر دو۔اگر تم جھوٹ کو مٹا ڈالو گے تو میں سمجھ لوں گا کہ تمہارا جوش حقیقی تھا اور اگر تم سچائی پر پوری طرح قائم رہو تو پھر میں اس بات کا ضامن ہوں کہ خدا تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق تم ضرور جیتو گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو مصلح موعود کے متعلق الہامات ہوئے ہیں ان میں سے ایک مظہر الحق بھی ہے یعنی وہ صداقت و راست بازی کا مظہر ہوگا پس تم جب بھی جیتو گے سچائی سے جیتو گے جھوٹ سے نہیں جیت سکتے۔خدا تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے میرا نام مظہر الحق رکھا ہے اور یہی سچائی کی تلوار ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھے دی تم اگر دشمن سے لڑنا چاہتے ہو تو اسی تلوار سے تمہیں لڑنا پڑے گا جو خدا تعالیٰ نے مجھے دی نہ اس تلوار سے جو خدا تعالیٰ نے مجھے نہیں دی۔مجھے خدا تعالیٰ نے لوہے کی تلوار نہیں دی بلکہ لوہے کی تلوار والا جسم بھی نہیں دیا ہمیشہ بیمار رہتا ہوں مجھے جو تلوار دی گئی ہے وہ سچائی اور صداقت کی تلوار ہے۔اگر تم میں سے کوئی شخص یہ تلوار اپنے ہاتھ میں پکڑنے کے لئے تیار نہیں تو وہ کس طرح فوج میں شامل ہو کر روحانی جنگ کے لئے تیار ہو سکتا ہے۔تھوڑے دن ہوئے میری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ نے ایک رؤیاد یکھا ہے ان کی اکثر خوا ہیں سچی نکلتی ہیں وہ کہتی ہیں جس دن حکومت کی طرف سے خطابات کی فہرست اخباروں میں شائع ہوئی اُس دن وہ اخبار کا وہی پرچہ پڑھ رہی تھیں کہ نیند آ گئی اور خواب میں خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں میرے متعلق آواز آئی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خطاب ملا ہے۔مَظْهَرُ الْحَكِيمِ ـ مَظْهَرُ الْحَقِّ | وَالْعَلَاءِ - مؤخر الذکر وہی الہام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہو اپس میں آج سچائی کی تلوار تم سب میں تقسیم کرتا ہوں اور پیشتر اس کے کہ تمہیں جنگ کے لئے جانا پڑے تمہارا فرض ہے کہ تم اس ہتھیار سے کام لو آخر ہر جنگ کے لئے کوئی نہ کوئی ہتھیار ہوا کرتے ہیں جو لوگ نیزوں اور تلواروں سے لڑا کرتے ہیں وہ فوج میں نیزے اور تلوار میں تقسیم کیا کرتے ہیں اور جولوگ گولہ بارود اور توپ و تفنگ سے لڑتے ہیں وہ گولہ بارود اور بندوقیں اور تو ہیں فوج میں تقسیم کیا کرتے ہیں۔ہم کو خدا تعالیٰ نے نہ بندوقیں دی ہیں نہ تو ہیں بلکہ نیزے اور تلواریں بھی نہیں دیں اور نہ اس قسم کی لڑائیوں کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہمیں جس جنگ کے لئے پیدا کیا گیا ہے وہ روحانی جنگ