خطبات محمود (جلد 16) — Page 356
خطبات محمود ۳۵۶ سال ۱۹۳۵ء صورت میں جو مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں وہ ظاہر ہیں ایسے موقعوں پر کمزور لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ آؤ ہم بھی جھوٹ کا جھوٹ سے مقابلہ کریں پس میں ایسے ہی لوگوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ سچائی اور جھوٹ میں کبھی جوڑ نہیں ہو سکتا۔دیکھو! تمہارے سامنے ایک ایسی چیز ہے جو قیامت کا نظارہ اپنے اندر رکھتی ہے اگر ایک مقدس ترین چیز انسان کے پاس ہو اور وہ اکیلا دشمنوں کے نرغہ میں گھرا ہوا ہو اور چاروں طرف سے لوگ اس سے وہ قیمتی چیز چھینے کی کوشش کر رہے ہوں تو جس رنگ میں وہ جان توڑ کر حملہ آوروں کا مقابلہ کرتا ہے اسی طرح آج ہماری حالت ہے اور ہمیں بھی احمدیت کے بچانے کا ایسا ہی فکر ہونا چاہئے۔ہم اکیلے ہیں اور دشمن ہمارا چاروں طرف سے احاطہ کئے ہوئے ہے وہ چاہتا ہے کہ احمدیت کو کچل دے پس ہمیں اس جنگ کی اہمیت کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے اور مستقبل قریب میں جو حالات پیش آنے والے ہیں ہمیں ان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے آج ماضی پھر دُہرایا جانے والا ہے اور پھر گزشتہ انبیاء کے دشمنوں کے حالات تمہارے سامنے رونما ہونے والے ہیں۔خدا تعالیٰ نے جس شخص کو ہماری ہدایت کیلئے مبعوث کیا ہے اس کے متعلق یہ کہا ہے کہ وہ جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ ہے یعنی تمام انبیاء کا لباس اسے دیا گیا ہے اگر تمام انبیاء کا لباس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیا گیا ہے تو کیا ان انبیاء سے مقابلہ کرنے والوں کا لباس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منکرین کو نہیں دیا گیا پس چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جَرِيٌّ اللهِ فِي حُلَلِ الانْبِيَاءِ ہیں اور آپ تمام انبیاء کے حلوں میں مبعوث ہوئے اس لئے تم دیکھو گے کہ وہ دشمن جو آدم کے مقابلہ پر کھڑا ہوا وہ تمہارے مقابل پر بھی کھڑا ہو گا تم دیکھو گے کہ وہ دشمن جو نوح کے مقابلہ پر کھڑا ہو وہ تمہارے مقابل پر بھی کھڑا ہوگا، تم دیکھو گے کہ وہ دشمن جوا براہیم کے مقابلہ پر کھڑا ہو ا تمہارے مقابل پر بھی کھڑا ہوگا ، اور تم دیکھو گے کہ موسیٰ اور داؤد اور سلیمان اور عیسی علیھم السلام کا دشمن اور رسول کریم ﷺ کا دشمن بھی نئے نئے حلے پہن کر آئے گا کیونکہ جس طرح خدا تعالیٰ کے انبیاء اپنے ایک مثیل کی شکل میں آئے اسی طرح انبیاء کے مخالفین بھی اپنے مثیلوں کی شکل میں رونما ہوئے ہیں پس یہ معمولی مقابلہ نہیں بلکہ نہایت ہی اہم مقابلہ ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ گل اس کی جان اس مقابلہ میں بچے گی یا ضائع ہو جائے گی ، کون کہہ سکتا ہے کہ کل اس کی عزت اس مقابلہ میں محفوظ رہے گی یا بر باد ہو جائے گی ، کون کہہ سکتا ہے کہ کل اس کا خاندان اس مقابلہ میں قربان ہو جائے گا یا بچ رہے گا اور اگر تم اپنی جان ، اپنے مال ، اپنی عزت اور