خطبات محمود (جلد 16) — Page 347
خطبات محمود ۳۴۷ سال ۱۹۳۵ء اسی طرح اسلام میں خود بخود حاجت مندوں کی حوائج پورے کرنے کی طرف توجہ نہ کرنا بھی مذموم ہے اس لئے میں نے محلہ والوں کا یہ بھی فرض رکھا تھا کہ غریبوں کی خبر گیری کریں اور ان کے لئے کام بھی مہیا کریں اس طرف بھی توجہ نہیں کی گئی اب بھی روزانہ درخواستیں میرے پاس آتی ہیں کہ اتنے لوگوں کے لئے کپڑوں کی ضرورت ہے ، آٹے کی ضرورت ہے حالانکہ میں کہہ چکا ہوں ہم امداد دینے کو تیار ہیں لیکن لوگوں کے لئے مستقل کام مہیا کرو۔پس کامیابی کے لئے سب سے پہلی چیز تقویٰ ہے۔دنیا بےشک ہنسے گی کہ کیا بیوقوف آدمی ہے سمجھتا ہے کہ نمازیں پڑھنے ، روزے رکھنے، اور استغفار کرنے سے ہم جیت جائیں گے مگر ہم جانتے ہیں کہ اس سے زیادہ کارگر ہتھیار اور کوئی نہیں۔دوسری چیز کا میابی کے لئے تقویٰ کا دوام ہے اگر تمہارے اندر تقویٰ ہے اور تمہاری اولاد کے اندر نہیں تو یہ ایک ایسا درخت ہے جو سوکھ جائے گا اور باغ میں وہی درخت لگایا جاتا ہے جس سے امید ہو کہ وہ لمبے عرصہ تک پھل دے گا پس جس نحل کو تم نے سالہا سال کے مصائب اور اپنے خون سے پہنچ کر پالا ہے وہ اگر آپ ہی سوکھ جائے تو کس قدر افسوس کی بات ہوگی اس لئے یہ چیز نہایت ضروری ہے کہ تم اپنی اولادوں میں تقویٰ پیدا کرو اور اگر یہ سلسلہ جاری ہو جائے تو تم کو کون مٹا سکتا ہے تم سدا بہار درخت ہو جاؤ گے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی۔پس میری دوسری نصیحت یہی ہے کہ اگر کامیابی چاہتے ہو تو اپنی اولادوں میں تقویٰ اور اخلاص پیدا کرو، محبت الہی پیدا کرو، صداقت پیدا کرو، انہیں غفلت، سستی ، فریب ، دھوکا سے بچاؤ، نیکی کرنے اور نمازوں کی عادت ڈالو، فساد، بددیانتی اور فسق و فجور سے بچاؤ، ان کے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کرو جن پر عمل دنیا کی خاطر نہ ہو بلکہ خدا کیلئے ہو جو شخص دنیا کیلئے با اخلاق ہے وہ صرف با اخلاق ہے لیکن جو اس لئے اعلیٰ اخلاق رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ خوش ہو وہ مذہبی آدمی ہے۔تیسری چیز یہ ہے کہ قربانیاں کر و تقویٰ کے بعد اس کی بہت ضرورت ہے تمہارے اندر خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہونے کی دائمی خواہش ہونی چاہئے اب سیکرٹری پیچھے پیچھے پھرتے ہیں کہ چندہ دو۔بے شک ہر جماعت میں ایسے بھی دوست ہوں گے جو گھر پر آ کر چندہ دیتے ہوں مگر بعض نادہند بھی ہیں اور کئی بار مانگنے پر ادا کرتے ہیں۔یاد رکھو! روپیہ کی قربانی سب سے ادنیٰ قربانی ہے اس کے علاوہ جانی قربانیاں ہیں کئی نو جوان زندگیاں وقف کرنے لگتے ہیں تو دوسرے روکتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ تو