خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 343

خطبات محمود ۳۴۳ سال ۱۹۳۵ء محض منہ کی لفاظی کبھی کام نہیں دے سکتی دنیا داروں کو تو یہ باتیں سج جاتی ہیں لیکن دینداروں کو نہیں۔میں نے پہلے بھی کئی بار ذکر کیا ہے کہ سر سکندر حیات خان صاحب کے مکان پر اس غرض سے ایک میٹنگ ہوئی کہ تحریک کشمیر میں احرار اور کشمیر کمیٹی والے مل کر کام کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ اس موقع پر چوہدری افضل حق صاحب نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ احمدیت کو کچل دیں گے، مٹا دیں گے موقع کے لحاظ سے اور دنیوی لحاظ سے اگر کوئی شخص جواب دیتا تو وہ دوطرح جواب دے سکتا تھا یا تو کہ دیتا کہ تمہاری ایسی تیسی ایسا کر کے تو دیکھو۔یا پھر کہتا کہ ہم احرار کو مٹا دیں گے مگر جب میں نے اس فقرہ کا جواب سوچا تو ان میں سے کوئی فقرہ میرے ذہن میں نہ آیا میں نے سوچا اگر کہوں ایسا کر کے تو دیکھو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تم سے کمزور نہیں حالانکہ میرے نفس میں کوئی طاقت نہیں دوسرا جواب یہ تھا کہ ہم تم کو مٹادیں گے اس کے متعلق میں نے سوچا کہ میں یہ کہنے والا کون ہوں کیا پتہ ہے کہ ہم کسی کو مٹا سکیں گے یا نہیں۔پس میں نے اُس وقت وہی جواب دیا جو اس کا سچا جواب ہے کہ مٹانا یا قائم رکھنا خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اگر وہ ہمیں مٹانا چاہے تو آپ لوگوں کو کسی کوشش کی ضرورت ہی نہیں لیکن اگر وہ ہمیں قائم رکھنا چاہے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا اور تقویٰ ہی ہے جو انسان کو ایسے دعووں سے بچاتا ہے کہ میں یہ کر دوں گا وہ کر دوں گا ایسے دعووں کا کیا فائدہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ قادیان میں یا شاید کسی اور جگہ سخت ہیضہ پھوٹا۔ایک جنازہ کے موقع پر ایک شخص کہنے لگا یہ لوگ تو خود مرتے ہیں ہیضہ پھیلا ہوا ہے مگر لوگ کھانے پینے سے باز نہیں آتے خوب پیٹ بھر کر کھا لیتے ہیں یہ خیال بھی نہیں کرتے کہ ہیضہ کے دن ہیں دیکھو ہم تو صرف ایک پھل کا کھاتے ہیں مگر یہ کم بخت ٹھو ستے جاتے ہیں۔دوسرے روز ایک اور جنازہ آیا کسی نے پوچھا کس کا ہے؟ تو ایک شخص کہنے لگا ایک پھل کا کھانے والے کا۔پس اس قسم کے دعووں کا کیا فائدہ کہ ہم یوں کر دیں گے ؤوں کر دیں گے ہاں اللہ تعالیٰ جو کہتا ہے وہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یوں ہو جائے گا۔انکسار کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ جو کہتا ہے اسے بھی چھپائیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِي۔۔ہم نے فرض کر لیا ہے کہ ہم اور ہمارے رسول غالب ہوں گے اب اگر کوئی یہ کہے کہ ہم تمہیں پیس دیں گے تو میں یہ کہ سکتا ہوں کہ اگر تو میری طاقت کا سوال ہے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اگر یہ الفاظ احمدیت کے متعلق کہے گئے ہیں تو یہ کبھی نہیں ہو سکتا احمدیت ضرور غالب ہو کر رہے گی خواہ میرے ہاتھوں سے یا