خطبات محمود (جلد 16) — Page 308
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء کرنا ہے یہ بات اگر تمہیں بُری لگتی ہے تو ہمارے پاس اس کا کوئی علاج نہیں۔ہم حضرت عیسی علیہ السلام کو زمین میں مدفون بتاتے ہیں احراری اسے ہتک سمجھتے ہیں لیکن ہم حضرت عیسی کے آسمان پر جانے کو رسول کریم ﷺ کی ہتک سمجھتے ہیں اور اسے ہم کسی صورت میں گوارا نہیں کر سکتے یہ بات اگر انہیں بُری لگے تو بے شک لگے محمد رسول اللہ ﷺ کی تک کے مقابلہ میں ہم کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔اسی طرح ہم پر ایک بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ہم انگریزوں کی خیر خواہی کرتے ہیں لیکن کیا انگریزوں سے ہماری کوئی رشتہ داری ہے جو جرمنوں اور فرانسیسیوں سے نہیں۔انگریز ہمیں کیا دیتے ہیں یہی گالیاں ہی ہیں جو مل رہی ہیں مگر اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری صرف ایک دو یا چار افسروں پر عائد ہوتی ہے اس کی وجہ سے ہم ساری قوم پر کس طرح الزام دے سکتے ہیں پھر یہ دو چار افسر بھی ہندوستانیوں کے بہکائے ہوئے ہیں بعض ہندوستانی افسر ہیں جو اپنی چوہدراہٹ جتانے کے لئے جھوٹی باتیں اور رپورٹیں ان کے پیش کرتے رہتے ہیں ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ ان ہندوستانی افسروں کو سچا سمجھ لیتے ہیں لیکن ہم انگریزوں کی تعریف اس اصل کی خاطر کرتے ہیں جسے انہوں نے دنیا میں جاری کیا ہے اور یہ خدا کی دین ہے۔سلطنت برطانیہ کے کئی حصے ہیں جو آزاد کے آزاد ہیں اور اکٹھے کے اکٹھے۔اسی اصل پر دنیا کے امن کی بنیاد قائم ہوسکتی ہے۔افغانستان ایران سے لڑ سکتا ہے مگر پنجاب سندھ سے نہیں لڑسکتا۔اللہ تعالیٰ نے انگریزوں کو سمجھ دی اور انہوں نے ایسی سلطنت بنالی ہے اب یہ ایک فضل ہے اور کون ہے جو اسے ان سے چھین سکے ، یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ایک انعام ہے اور اس کا انکار کیونکر ہوسکتا ہے اور ہم اس کا انکار اس وجہ سے کیونکر کر سکتے ہیں کہ احراری ہمیں انگریزوں کا حمایتی سمجھتے ہیں یا بعض ہندوستانی افسر ہمارے مخالف ہیں ہم تو سچائی کے نوکر ہیں بینگن کے نہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہی تعلیم دی ہے جو سچائی ہو ، اسے لے لو خواہ کوئی بندہ راضی ہو یا ناراض۔کہتے ہیں کہ کسی راجہ نے ایک دن بینگن کی تعریف کی کہ یہ بہت اچھی چیز ہے ایک درباری نے یہ سن کر بینگن کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے اور یہ بھی کہا کہ اس کی شکل ہی ایسی ہے جیسے کوئی صوفی گوشہ میں بیٹھا عبادت کر رہا ہو لیکن کھانے سے جب راجہ کو بواسیر ہوگئی اور ایک دن اُس نے بینگن کی مذمت شروع کر دی تو اُسی درباری نے دنیا جہان کے تمام نقائص بینگن میں بیان کر دیئے اور کہا کہ حضور ! اس کی تو شکل ہی ایسی ہے جیسے ہاتھ منہ کالا کر