خطبات محمود (جلد 16) — Page 293
خطبات محمود ۲۹۳ سال ۱۹۳۵ء انہوں نے اس وقت ”سیاست“ کے مضامین پڑھے اور ان کی تعریف کی اور انہیں معلوم تھا کہ جماعت احمد یہ کے کیا عقائد ہیں یا کیا عقائد ہماری جماعت کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود اُس وقت انہوں نے ہمیں مسلمان سمجھا اور اس کا اپنی دستخطی چٹھیوں میں اقرار کیا ، اب کون سا نیا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا کہ اس کی بنیاد پر انہیں خیال آیا کہ جماعت احمد یہ مسلمان فرقہ نہیں۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس بات کا غصہ نہیں کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر کیوں مقرر کیا گیا بلکہ اس بات کا غصہ ہے کہ سر مرزا ظفر علی صاحب کو احمدیوں نے پنجاب کونسل کا ممبر کیوں نہ بنایا۔پس ظفر اللہ غلطی سے لکھا گیا ہے اصل نام وہاں سر مرزا ظفر علی چاہئے تھا اور وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کی ممبری کی بجائے پنجاب کونسل کی ممبری کا ذکر ہونا چاہئے تھا۔پس میں پوچھتا ہوں کیا یہ طریق جو ہماری مخالفت میں اختیار کیا جا رہا ہے ، اخلاق کے مطابق ہے اور کیا یہ دیانت ہے کہ آج سے ایک سال پہلے تو ہمیں مسلمان سمجھا جائے مگر اب گورنر پنجاب کے نام چٹھی شائع کی جائے کہ " مرزائی مسلمان نہیں ہیں۔” مرزائیوں کو جدا گانہ جماعت قرار دیا جانا چاہئے، حالانکہ وہ لکھنے والا ہمیں مسلمان قرار دے چکا ہے اور ہمیں نیک اور مسلمانوں کا خیر خواہ سمجھ کر ہم سے امید وار امداد رہا ہے مگر جب ہم نے اس کی بجائے ایک اور کی تائید کر دی تو ہم زیر الزام آگئے اور ہم اس قابل ہو گئے کہ ہمیں مسلمانوں کی فہرست سے خارج قرار دیا جائے۔سر مرزا ظفر علی صاحب کی دستخطی چٹھیاں ہمارے پاس موجود ہیں اور اگر وہ ان کا انکار کریں گے تو انہیں شائع بھی کیا جا سکتا ہے لیکن میں کہتا ہوں اگر واقع میں احرار کا دیانت سے یہ دعوی ہے کہ وہ آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندہ ہیں تو پھر ہمیں الگ کرنے کا کیا مطلب ہے جب ہماری کسی جگہ بھی کثرت نہیں اور آٹھ کروڑ مسلمان ان کے ساتھ ہیں تو ہمارا آدمی کسی انتخاب میں کس طرح آ سکتا ہے۔نہ سیالکوٹ سے آ سکتا ہے نہ گورداسپور سے اور نہ کسی اور جگہ سے کیونکہ ہر جگہ ان کی کثرت ہے۔پھر چاہئے تو یہ تھا کہ کہا جاتا احمدیوں کو الگ نہ کرو کیونکہ اگر انہیں جداگانہ نیابت حاصل ہو گئی تو کم از کم ایک ممبری انہیں ضرور مل جائے گی اور اگر ساتھ رہے تو کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن وہ یہ نہیں کرتے جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ جانتے ہیں آٹھ کروڑ مسلمان ان کی تائید نہیں کریں گے بلکہ ہماری کریں گے پس وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں زیادہ فائدہ اٹھانے سے محروم کر دیں ورنہ آٹھ کروڑ مسلمانوں کی حقیقی نمائندگی کی صورت میں ان کو ڈرکس