خطبات محمود (جلد 16) — Page 217
خطبات محمود ۲۱۷ سال ۱۹۳۵ء سینہ ہوتی ہے۔دشمن چھپ کر بھی کئی رنگ میں حملے کرتے ہیں کبھی اندر ہی اندر نفاق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، حکومت میں ریشہ دوانیاں کی جاتی ہیں اور اسے بد نام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ڈرایا جاتا ہے، لالچ دیا جاتا ہے اور یہ سب حملے وہ ہیں جو پیچھے سے کئے جاتے ہیں۔اس دعا میں دونوں طریق کو مد نظر رکھا گیا ہے۔نَجْعَلُكَ فِی نُحُوْرِهِمْ ظاہر حملہ کے لئے ہے۔نَحَرْ چھاتی کے اوپر کے حصہ کو کہتے ہیں اس دعا میں پہلے اللہ تعالیٰ سے اس حملہ میں مدد مانگی گئی ہے جو سامنے سے آتا ہے دوسرے جملہ میں اس حملہ کا ذکر ہے جو پوشیدہ کیا جاتا ہے کئی دشمن منافق اور بزدل لوگ پوشیدہ حملے کرتے ہیں اور بعض اوقات بہادر دشمن بھی خُفیہ طریق اختیار کرتا ہے۔اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے درخواست ہے کہ ہمیں دسیسہ کاریوں سے اور مخفی شرارتوں کے بد انجام سے بچائے۔مثلاً آج کل ہمارے خلاف جھوٹ بولا جاتا ہے ہم آرام سے قادیان میں بیٹھے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ہم لڑتے ہیں، فساد کرتے ہیں۔ہم نے حکومت کی وہ خدمت کی ہے کہ بڑی بڑی تنخواہیں لینے والے افسر بھی نہیں کر سکے مگر ہمیں اس کا مخالف کہا جاتا ہے، ہم اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ ہماری جماعت نے بعض حکام کو حرام زادہ کہا ہے، یہ سب باتیں مخفی طور پر کہی گئیں اور اگر حکومت کے بعض افسر بول نہ پڑتے تو ہمیں پتہ بھی نہ لگتا ایسے شرور سے اللہ تعالیٰ ہی بچا سکتا ہے۔ان دعاؤں کے بعد اللہ تعالیٰ یا تو بالا افسروں پر حق کو کھول دے گا اور انہیں شریر اور بد وضع لوگوں کے متعلق سمجھ عطا کر دے گا ، وہ سچ اور جھوٹ کو نتھا سکیں گے اور اس کے بعد اگر وہ اصلاح کر لیں تو اللہ تعالیٰ کا رحم ان پر ہو گا لیکن اگر ضد کریں گے اور سمجھیں گے کہ ہم بادشاہ ہیں ، حاکم ہیں جماعت خواہ کچھ کہے ہم اپنے ایجنٹوں کی بات ہی مانیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے منصوبوں کو توڑنے کے لئے ایسے سامان کر دے گا جو آسمانی ہوں گے اور ان کے ضرر سے ہمیں بچالے گا اور ان سے بڑے حاکموں کو توفیق دے دے گا کہ ان کی نا انصافی کا ازالہ کر سکیں۔پس ہمیں چاہئے کہ ان ہتھیاروں سے مقابلہ کریں جن کا مقابلہ کوئی کر ہی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ نے ہم سے تلواریں چھین لی ہیں تاہم دلائل کے زور سے اسلام کو پھیلا کر اس اعتراض کو دور کریں جو اسلام کی اشاعت پر کیا جاتا ہے اس لئے تلوار ، بندوق، توپ مشین گن، بم اور دوسرے ایسے ہی ہتھیاروں سے مقابلہ کا خیال ہمارے وہموں سے بھی بالا ہے ہمیں پہلے دن سے ہی یہ سبق دیا گیا ہے