خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 215

خطبات محمود ۲۱۵ سال ۱۹۳۵ء دشمنوں کا منہ بند کرنا چاہتا ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام تلوار سے ہی پھیل سکتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ احمدیت ایک عرصہ تک حکومت سے محروم رہے اور اسے مظلوم بنایا جائے۔احمدی طرح طرح کے مظالم کا تختہ مشق ہوں تا ان کی کمزوریوں اور ان پر ظلموں کو دیکھ کر ہر شخص یہ کہنے پر مجبور ہو کہ اس کی ترقی محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوئی ہے ورنہ کوئی صورت نہ تھی۔پس اللہ تعالیٰ کی حفاظت ، نصرت اور رحم کی صفات کے ظہور کا یہ ایک خاص زمانہ ہے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان صفات کو چن کر ہماری جماعت کے سامنے رکھا تا ہم خصوصیت سے ان کو یاد کریں اور ان میں جوش پیدا ہوا ور سلسلہ کی ترقی میں کوئی روک پیدا نہ ہو سکے۔رَبِّ كُلُّ شَيْئِی خَادِ مُک میں یہ بتایا ہے کہ الہی ! ہم بہت ادنیٰ حالت میں ہیں، غلام ہیں اور دنیا میں ہر جگہ محکوم ہیں ،کہیں عیسائی ہم پر حاکم ہیں تو کہیں ہندو کہیں دوسرے مسلمان کہلانے والے ہیں تو کہیں کنفیوشس کے پیر و ہم پر حاکم ہیں ، ہماری حکومت کہیں بھی نہیں اور ہم دنیا کے خادم ہیں مگر اے رب ! جن کے ہم خادم ہیں وہ بھی تیرے خادم اور تیری حکومت کے تابع ہیں۔فَاحْفَظُنِى وَانْصُرُنِي وَارْحَمْنِئ تو ان کا آقا ہے اور ہم مظلوم ہیں ان کے مظالم سے تو ہماری حفاظت کر اور نصرت کر اور رحم کر۔اگر ڈ نیوی حکومتیں ہماری حفاظت نہیں کرتیں تو اے خدا! تو جو ان حکومتوں پر بھی حاکم ہے ہماری حفاظت کر۔اگر وہ لوگ جو اسلام کے نام میں ہمارے شریک ہیں ، بجائے اس کے کہ اسلام کی خدمت میں ہماری مدد کریں ہماری مخالفت کرتے ہیں تو تو ہماری نصرت کر۔وہ لوگ طاقتور ہیں اور ہم کمزور ہیں پس تو ہم پر رحم کر کہ تو سب سے بڑا طاقتور ہے۔یہ دعا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو سکھائی اور اسے اسم اعظم قرار دیا اس لئے اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کر نیکی طاقت ہے۔اسم اعظم اسی دعا کو کہتے ہیں جو سب دعاؤں سے بھاری ہو اور مصائب کوٹلا دیتی ہو۔ایک سوال مجھ سے کیا گیا ہے کہ کیا یہ دعا جمع کے صیغہ میں بھی کی جاسکتی ہے اور کیا یہ الہام الہی میں دخل اندازی تو نہیں میں تو اکثر ایسا کرتا ہوں کیونکہ میری دعائیں ساری جماعت کے لئے ہوتی ہیں اور میں سمجھتا ہوں ایسا کرنا الہام الہی میں دخل اندازی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے دعا کو آخر ایک لفظ میں ہی سکھانا تھا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو دعائیں آتی ہیں وہ ایک لفظ میں ہی ہوتی ہیں کبھی مفرد کے صیغہ میں کبھی جمع کے صیغہ میں۔پھر دعا کرنے والے اپنے حالات کے مطابق اسے ڈھال