خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 12

خطبات محمود ۱۲ سال ۱۹۳۵ء مارے تم آگے سے جواب نہ دو حالانکہ قانون خود حفاظتی کی اجازت دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے گھروں میں احرار گھس گئے۔خود میری کوٹھی میں وہ لوگ آتے رہے اور بعض دوستوں نے ان کی تصاویر بھی لیں لیکن کسی نے انہیں کچھ نہ کہا حالانکہ گھر میں گھسنے والوں پر وہ قانو نا گرفت کر سکتے تھے لیکن آئندہ کے لئے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ حالات ایسی صورت اختیار کر رہے ہیں کہ ممکن ہے کسی وقت مجھے یہ بھی کہنا پڑے کہ میں اب تمہیں اپنے قانونی حق کے استعمال سے نہیں روکتا۔تم اپنے حالات کو خود سوچ لو ، میری طرف سے تم پر کوئی گرفت نہ ہوگی لیکن اس وقت تک کہ میں کوئی ایسا اعلان کروں مجھے امید ہے کہ ہماری جماعت کے دوست اپنے جوشوں کو اسی طرح دبائے رکھیں گے جس طرح کہ اس وقت تک دباتے چلے آئے ہیں۔اور اگر چہ حکومت کے متعلق ان کے دل کتنے ہی رنجیدہ کیوں نہ ہوں اور انہیں بہت بُری طرح مجروح کیا جا چکا ہو مگر پھر بھی وہ میری اطاعت سے باہر نہیں جا سکتے اور انہیں صبر سے کام لینا چاہئے۔میں جانتا ہوں کہ اس قسم کے مواقع پر کسی قسم کا ڈر یا خوف یا تعزیر کا خیال انسان کو نہیں روک سکتا۔میں نے مولوی رحمت علی صاحب کا واقعہ کئی بار سنایا ہے۔جس وقت ان کے کان میں یہ آواز پڑی کہ نیر صاحب مارے گئے ہیں اور بعض احمدی زخمی ہو گئے ہیں تو وہ پاگل ہو کر اس مکان کی طرف جا رہے تھے وہ جانتے تھے کہ ممکن ہے وہاں لڑائی ہو اور میں مارا جاؤں یا زخمی ہو جاؤں۔یا ممکن ہے مقدمہ چلے اور باوجود دفاعی پہلو اختیار کرنے کے میری براءت ثابت نہ ہو اور میں قید یا پھانسی کی سزا پاؤں مگر پھر بھی وہ تھر تھر کانپ رہے تھے کہ کیوں ہمیں روکا جارہا ہے اور کوئی خیال انہیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا تھا۔اس وقت میری آواز تھی کہ اگر ایک قدم بھی آگے بڑھے تو جماعت سے نکال دوں گا۔یہ لفظ تھے جنہوں نے ان کو آگے بڑھنے سے روکا ورنہ کوئی قانون اس وقت تک نہ انہیں روکتا تھا اور نہ روک سکتا تھا۔مگر کون سا قانون ہے جو مجھ سے یہ امید کرتا ہے کہ جب کسی کے بھائی بندوں پر یا اس پر دشمن حملہ آور ہوا اور قانون اسے خود حفاظتی کی اجازت دیتا ہو میں اسے اس حق کے استعمال سے روکوں۔جہاں تک مجھے معلوم ہے ایسا کوئی قانون نہیں اور میں صرف سلسلہ کی نیک نامی اور حکومت کی خیر خواہی کے لئے یہ کام کر رہا ہوں مگر حکومت کا بھی تو فرض ہے کہ وہ اس قربانی کی قدر کرے۔وگرنہ ہمارے دل اس قدر زخمی ہیں کہ اگر دشمنوں کے حملوں کا جواب ہم سختی سے دیں تو کوئی قانون ایک لمحہ کے لئے بھی ہمیں گرفت نہیں کر سکتا کیونکہ مجرم وہ