خطبات محمود (جلد 16) — Page 154
خطبات محمود ۱۵۴ سال ۱۹۳۵ء تھے۔اگر زمیندار نے ہل چلایا تو اس کے لئے لوہے کا حصہ اور لوگوں نے بنایا اور اس کے لئے انہوں نے بڑی بڑی محنتیں کیں۔پس در اصل ساری دنیا ایک لڈو کے بنانے میں لگی ہوئی تھی بلکہ بادشاہ بھی اس لڈو کے بنانے میں مدد دے رہے تھے کیونکہ اگر وہ امن قائم نہ رکھتے تو کھیت ویران ہو جاتے۔اسی طرح پولیس اور مجسٹریٹ وغیرہ بھی لڈو بنانے میں مدد دے رہے تھے کیونکہ اگر دشمن کھیتوں کو جلا دیتا تو وہ شکر کس طرح تیار ہو سکتی جس سے لڈو بننا مقدر تھا۔غرض مظہر جان جاناں صاح اسی طرح ایک ایک چیز کا ذکر کرتے اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کی طرف اپنے خلیفہ میاں غلام علی صاحب کو تو جہ دلاتے رہے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا اور وہ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ کہتے ہوئے نماز پڑھانے لگ گئے۔پس مظہر جان جاناں صاحب نے اسی بات کی طرف توجہ دلائی کہ لڈو جب میرے سامنے آتا ہے تو اس کا ذرہ ذرہ مجھے سُبحَانَ اللہ کہتا دکھائی دیتا ہے۔ہمارے غلام علی کو کیوں یہ خیال نہ آیا کہ ایک لڈو اللہ تعالیٰ کے کتنے بڑے احسانات کا نتیجہ ہے۔تب انہیں پتہ لگا کہ لڈو کھانے کا کیا مفہوم تھا۔پس اس لحاظ سے زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی تسبیح کر رہا ہے چھوٹا بھی اور بڑا بھی ، ادنیٰ بھی اور اعلیٰ بھی مگر ان چیزوں کی تسبیح کا ایک اور طریق بھی ہے وہ یہ کہ اگر بندہ تسبیح کرنے لگے تو پھر بھی زمین و آسمان میں تسبیح ہونے لگتی ہے کسی نے کہا ہے جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تو ہی تو ہے اب معشوق تو ہر طرف نہیں ہوتا۔محبت ہے جس کے نتیجہ میں انسان اپنے محبوب کا جلوہ ہر طرف دیکھتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ سے جسے سچی محبت ہوا سے ہر طرف سے تسبیح کی آواز میں اُٹھتی سنائی دیتی ہیں۔وہ روٹی کھاتا ہے تو اسے تسبیح کی آواز آتی ہے پانی پیتا ہے تو تسبیح کی آواز آتی ہے اس لئے کہ وہ روٹی کھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے اور پانی پیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے۔تم اگر ایک گنبد کے نیچے کھڑے ہو جاؤ اور زور زور سے آواز دو تو کیا تمہاری آواز واپس آتی ہے یا نہیں ؟ تم اگر زور سے آواز دیتے ہو کہ رشید تو گنبد سے بھی آواز آتی ہے کہ رشید ! اسی طرح خدا تعالیٰ کہتا ہے كه يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ جب دنیا میں میرے ایسے بندے پیدا ہو جائیں جن کے دلوں سے تسبیح کی آوازیں اٹھ رہی ہوں تو دنیا کے ذرہ ذرہ سے تسبیح پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔جس طرح گنبد کے نیچے کھڑے ہو کر جب تم رشید کہتے ہو تو تمہیں آواز آتی ہے کہ