خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 147

خطبات محمود ۱۴۷ سال ۱۹۳۵ء پڑھتے ہیں تو قرآن مجید ہمارے لئے بول رہا ہوتا ہے۔لیکن ایک ان پڑھ کے سامنے قرآن مجید رکھ دو تو وہ یہی کہے گا کہ کاغذوں پر سیاہی گرمی ہوئی ہے۔پس آن پڑھ کے لئے قرآن کے الفاظ کا غذ پر گری ہوئی سیاہی کی سی حیثیت رکھتے ہیں لیکن جب ایک پڑھا لکھا شخص دیکھتا ہے تو اسے عبارتوں کی عبارتیں نظر آنے لگتی ہیں۔اسی طرح اگر ایک انجینئر کے سامنے انجینئر نگ کی کوئی کتاب رکھ دو تو وہ کتاب اس کے لئے بولتی ہوئی نظر آئے گی۔کہیں وہ کتاب اسے یہ بتلائے گی کہ چھتوں کے لئے گارڈ ر کتنے مضبوط ہونے چاہیں۔کتنے اور کیسے گارڈر چھت کا بوجھ برداشت کر سکتے ہیں، کہیں وہ کتاب اسے یہ بتائے گی کہ محراب کس صورت میں بوجھ زیادہ اُٹھا سکتا ہے، کہیں وہ کتاب اسے یہ بتائے گی کہ عمارت کے لئے کتنی بنیاد کھودنی چاہئے اور کتنی گہری بنیادوں پر کتنی بلند عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔غرض وہ کتاب اس کے سامنے بول رہی ہوگی لیکن ایک نادان کے سامنے رکھ دو تو وہ کہے گا کچھ لکیریں سی کچھی ہوئی ہیں۔پس ایک صاحب علم کے لئے جو کتاب بولتی ہے جاہل کے سامنے وہ خاموش ہوتی ہے بلکہ خدا تعالی کی پاکیزہ کتاب بھی ایک جاہل کے لئے گری ہوئی سیاہی کی حیثیت رکھتی ہے مگر ایک عالم کے لئے کیسی بولنے والی ہے بلکہ اس قرآن سے زیادہ بولنے والی چیز دنیا میں اور کوئی ہے ہی نہیں۔تیرہ سو سال سے برابر آج تک بولتا ہی چلا جاتا ہے اور نئی سے نئی باتیں غور کرنے والوں پر کھولتا ہے پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ زمین و آسمان کی ہر چیز خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے تو ہمارا یہ سمجھ لینا کہ تسبیح کے صرف اتنے ہی معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے قانون میں کوئی عیب نہیں ظلم ہے۔یقیناً زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ کسی رنگ میں بولتا اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ خواب اور رویا میں جو یقظہ سے زیادہ واضح ہوتی ہے۔بعض دفعہ دیوار میں بولتی دکھائی دیتی ہیں ، بعض دفعہ جانور مثلا گتے اور بلیاں بولتی دکھائی دیتی ہیں اور خوابوں میں یہ جانور بہت معقول باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک دفعہ اسی رنگ میں الہام ہو ا کہ خاکسار پیپر منٹ‘۵ دشمنان سلسلہ ہمیشہ اس الہام پر جنسی اُڑاتے رہتے ہیں حالانکہ اگر بہرہ اس بات پر ہنسی اڑائے کہ لوگ باتیں کرتے ہیں یا اندھا اس بات پر ہنسے کہ لوگ چمکنے والے سورج کا ذکر کرتے ہیں تو یہ