خطبات محمود (جلد 16) — Page 121
خطبات محمود ۱۲۱ سال ۱۹۳۵ء اس ہفتہ عورتوں میں جو درس تھا وہ سورہ جمعہ کے اس رکوع کا تھا جو میں نے ابھی پڑھا ہے۔جب میں نے درس شروع کیا تو معلوم ہوا کہ الہی تصرف میرے قلب پر اور میری زبان پر ہے اور الہی منشاء کے ماتحت بعض ایسی باتیں میری زبان پر جاری ہورہی ہیں جو پہلے کبھی میرے ذہن میں نہیں آئیں اور چونکہ میں نے دیکھا کہ گو ہم پہلے ہی اس رکوع کو سمجھتے ہیں کہ یہ اس زمانہ کے متعلق ہے اور اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کے متعلق پیشگوئی ہے مگر درس کے وقت اس کے مضامین زیادہ وضاحت کے ساتھ میرے ذہن میں آنے لگے اور مجھے معلوم ہوا کہ خصوصا ان ایام کے ساتھ اس رکوع کا زیادہ تعلق ہے۔تب میں نے ارادہ کیا کہ اس کے متعلق مردوں میں بھی تقریر کروں اور چونکہ ان ایام میں جمعہ میں ہی اس کا موقع مل سکتا ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ خطبہ میں اس رکوع کے متعلق بعض باتیں بیان کروں جو تفسیر سے تعلق رکھتی ہیں۔الہی تصرف جس وقت ہوتا ہے اس کی نقل تو دوسرے وقت نہیں کی جاسکتی لیکن جو مضمون یادر ہے اسے اپنے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔پس میں اس کے وہ مضامین جو نہایت اہم اور اس قابل ہیں کہ جماعت کو ان سے آگاہ کیا جائے اس وقت بیان کرتا ہوں۔سب سے پہلے میں اس امر کی تشریح ضروری سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح سے اس جگہ کیا مراد ہے۔اللہ تعالیٰ اس سورۃ کی پہلی آیت میں فرماتا ہے يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کرتی ہے اللہ تعالی کی جو بادشاہ ہے، جو قدوس ہے ، جو عزیز ہے اور جو حکیم ہے۔یہ چار صفات اللہ تعالیٰ کی بیان کی گئی ہیں جن کی تسبیح کو بندوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ملکیت کی پاکیزگی اور صفائی کس طرح ہے؟ تملک کے معنی بادشاہ کے ہوتے ہیں اور بادشاہ کا کام ہوتا ہے ظالم و مظلوم میں انصاف کرنا اور اختلافات کو دور کرنا۔بادشاہ دراصل تمدن انسانی کا ایک نتیجہ ہے، لوگ اکٹھے رہتے ہیں تو ان کے حقوق کے بارے میں جھگڑے بھی ہوتے ہیں ، زید ، بکر اور خالد اگر الگ الگ رہیں تو ان تینوں میں کوئی جھگڑا نہیں ہو گا لیکن ان کو ایک جگہ بسا دو تو آپس میں اختلاف شروع ہو جائیں گے۔جوں جوں ضرورتیں بڑھتی جائیں گی اختلافات بھی بڑھتے جائیں گے۔ایک گاؤں میں جہاں ایک ہزارایکٹر زمین ایک ہی جیسی قابل زراعت ہو اور اس میں پانچ چھ گھر آباد ہوں تو وہاں لوگ بہت کم لڑیں گے