خطبات محمود (جلد 16) — Page 110
خطبات محمود 11 + سال ۱۹۳۵ء رہا ہے جس کے بعد وہ ہمیں محبت سے بوسہ دے گا۔اللہ تعالیٰ کی جماعت کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ عذاب یافتہ قوم ہے ، ایک بہت بڑا گناہ ہے۔عبد الحکیم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہی لکھا تھا کہ آپ کی جماعت میں مولوی نورالدین صاحب ہی ایک کامل انسان نظر آتے ہیں اور لوگ تو ایسے نہیں۔اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے یہی دیا کہ مجھے تو اپنی جماعت میں لاکھوں انسان ایسے نظر آتے ہیں جو صحابہ کا نمونہ ہیں اور تم ان خیالات سے تو بہ کر دور نہ اس کا انجام اچھا نہیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے آپ نے نہایت سختی سے اپنی جماعت کے عیوب بیان کئے ہیں تو معالج والی نگاہ سے عیوب کا دیکھنا اور چیز ہوتی ہے اور اعتراض کی نیت سے عیوب کا دیکھنا بالکل اور چیز ہے۔جتنے عیب میں اپنی جماعت میں دیکھتا ہوں غالباً اس دوست کو بھی اتنے عیب نظر نہیں آتے ہوں گے اور یقینا نہیں آتے مگر جس نگاہ سے مجھے نظر آتے ہیں وہ اور ہے اور جس نگاہ سے انہیں نظر آتے ہیں وہ اور ہے۔بے شک یہ ایک بہت بڑا ابتلاء ہے جو ہماری جماعت پر آیا اور بے شک ہم اگر اس ابتلاء کو نہیں سمجھیں گے، اس کا مقابلہ نہیں کریں گے اور اس سے بچنے کی تدابیر نہیں سوچیں گے تو ایسی مشکلات میں مبتلاء ہو سکتے ہیں جن سے نکلنے کے لئے سالہا سال درکار ہوں۔مگر باوجود اس کے میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء نہیں کہ وہ ہمیں عذاب دے، اس کا یہ منشاء نہیں کہ وہ ہمیں سزا دے بلکہ اس کا منشاء یہ ہے کہ وہ ہمیں ترقی دے۔اس کا منشاء یہ ہے کہ وہ ہمیں بڑھائے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ وہ ہمیں پھیلائے باقی اس راہ میں جان چلی جانا یا خدا کے لئے مٹی میں مل جانا یہ کوئی ذلت کی بات نہیں بلکہ عزت کی بات ہے کیونکہ خدا تعالیٰ یہ کہہ چکا ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے دین کے لئے مالی قربانی کرتا ہے یا اس کے جلال کے لئے اپنی جان قربان کر دیتا ہے تو بہر حال دونوں صورتوں میں زمانہ میں اس کا نام قائم رہے گا اور دنیا کا کوئی حادثہ اس کے نام کو مٹا نہیں سکتا۔بھلا غور تو کرو کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ گناہ تو ہم سب کریں مگر گالیاں جنہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا کہا جاتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملیں۔فرض کرو آج ہماری جماعت کے آدمی گھروں میں چُھپ کر بیٹھ رہیں اور احمدیت کی اشاعت نہ کریں ،حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور رسول کریم ﷺ کو نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ، نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ چھوڑ دیں تو کیا کوئی دشمن ہم پر حملہ کرنے والا کھڑا رہ سکتا ہے۔