خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 109

خطبات محمود 1+9 سال ۱۹۳۵ء کرے اور جماعت نے وہ مالی قربانی کی۔میں نے کہا کہ جسمانی قربانی کرو اور کھانے میں بھی تخفیف کر دو جماعت نے فوراً اس پر لبیک کہا۔پھر میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے پیش کرو اور جاؤ باہر کے ملکوں میں تبلیغ کے لئے نئے میدان تلاش کرو کیونکہ یہ بیوقوفی ہوتی ہے کہ ایک شخص جسے ہماری باتوں سے غصہ آرہا ہو ، وہ ہمیں گالیاں دے رہا ہو اور ہم اس پر اپنی طاقتیں صرف کرتے چلے جائیں۔ہمارا فرض ہوتا ہے کہ ہم اسے چھوڑیں اور کسی ٹھنڈے مزاج والے کے پاس جائیں اور اسے تبلیغ کریں۔پس میں نے اپنی جماعت سے کہا کہ اگر ہندوستان میں شورش ہے اور ان لوگوں کو تبلیغ کرنے سے فائدہ نہیں ہوتا تو جاؤ اور دوسرے ممالک میں اپنے لئے نئے میدان اور نئے راستے تلاش کرو۔میری اس تحریک پر جماعت نے اپنے آپ کو پیش کیا اور ایسے اخلاص کے ساتھ جماعت کے افراد نے اپنے آپکو پیش کیا کہ اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے پھر چھوٹے چھوٹے بچوں نے ویسا ہی نمونہ دکھایا جیسا کہ رسول کریم ہے کے وقت دو بچوں نے دکھایا تھا جو بدر کی جنگ میں شامل ہوئے تھے یا جو حضرت علیؓ نے دکھایا تھا جب کفار نے رسول کریم ﷺ کی دعوت حق کے جواب میں اسے قبول کرنے سے اعراض کیا تھا چنا نچہ ایک بچہ سے جب دریافت کیا گیا کہ اگر تمہیں ہماری طرف سے کچھ نہ ملے تو تم کیا کرو گے۔تو اس نے جواب دیا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اسی وقت ایک ٹوکری لے کر چل پڑوں گا اور محنت مزدوری کرتا ہوا پیدل اپنی منزلِ مقصود تک پہنچوں گا اور یہ ایک مثال نہیں بیسیوں نوجوان بیتابی سے اس قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔وہ صرف اذن چاہتے ہیں اور کوئی امداد نہیں چاہتے سوائے اس کے کہ کام کی جلدی کی وجہ سے ہم خود ان کی کوئی امداد کریں۔کیا یہ ایک عذاب یافتہ قوم کی حالت ہوا کرتی ہے کیا جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی گرفت نازل ہوتی ہے ان میں ایسا ہی اخلاص اور تقوی پایا جاتا ہے پھر کون ہے جو کہہ سکے کہ یہ مشکلات اللہ تعالیٰ کا عذاب ہیں۔بے شک میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے اندر کمزوریاں ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ ہم ان کمزوریوں پر غالب آئیں لیکن تکالیف سے مقصود سزا دینا نہیں بلکہ اپنے قریب کرنا ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے ماں اپنے بچہ کا منہ دھوتی ہے تو وہ روتا ہے۔وہ اسلئے اس کا منہ دھو کر اسے نہیں رُلاتی کہ اسے سزادے بلکہ اس لئے منہ دھوتی ہے کہ اسے چومے۔اسی طرح خدا تعالیٰ ان ابتلاؤں پر اس لئے خاموش نہیں کہ وہ ہمیں سزا دینا چاہتا ہے بلکہ وہ اس لئے خاموش ہے کہ اس ذریعہ سے ہمارا منہ دھویا جا