خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 84

خطبات محمود ۸۴ سال ۱۹۳۵ء بخار چڑھ جائے گا لیکن اگر کونین کھالے تو ہو سکتا ہے کہ نہ چڑھے ۔ پس بسا اوقات انسان کو حزم اور نے کے لئے بھی خواب آتے ہیں ۔ ایک شخص کو دیا ہوتا ہے کہ تم مر جاؤ گے گو اس کا مطلب یہی ہو کہ وہ مر جائیگا لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ موت اس کے موجودہ حالات کا نتیجہ ہو اور اس کے لئے ان حالات کو بدل کرموت ۔ رموت سے بچ جانا ا جانا ممکن ہو ۔ مثلاً وہ بیمار ہے اور پر ہیز کرے یا علاج کرائے تو بیچ جائے یا اگر دشمن کے حملہ سے موت کی خبر ہے اور وہ اس سے ہوشیار ہو جائے تو رویا کی تعبیر بھی بدل جائے غرض ہر رؤیا تقدیر مبرم نہیں ہوتی بلکہ بعض دفعہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ حالات ایسا چاہتے ہیں اور اگر حالات بدل جائیں گے تو تعبیر بھی بدل جائے گی ۔ پس جن رؤیاؤں کا میں نے ذکر کیا ہے ان کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ حالات کے نتیجہ میں ایسا ہو سکتا ہے لیکن اگر احتیاط کرو ، دعائیں کرو اور صدقہ وخیرات کرو تو ممکن ہے خدا بدل دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان خوابوں کے وہ اچھے معنی ہوں جو میں نے پہلے بیان کئے ہیں ۔ اب میں اس سوال کو لیتا ہوں جو بعض دوستوں نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض رؤیا اور پیشگوئیاں آپ سے منسوب ہیں ۔ پھر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ کی اتنی عمر ہی ہو اور چونکہ بعض دشمنوں کی طرف سے ابھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ سبز اشتہار والی پیشگوئی میرے متعلق نہیں اور کہ میں خود اس کے اپنے متعلق ہونے سے انکار کرتا ہوں اس لئے میں اس کے متعلق بھی کچھ بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں ۔ یہ بات قطعاً غلط ہے کہ میں اس کے اپنے متعلق ہونے سے انکار کرتا ہوں میں جس بات کا انکار کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس پیشگوئی کو کسی مامور کے متعلق سمجھا جائے یا یہ سمجھا جائے کہ جس کے متعلق یہ ہے اس کے لئے الہاما ایسا دعوی کرنا لازمی ہے بعض باتوں کا بے شک الہا ما دعوی سے تعلق ہوتا ہے لیکن بعض کا ظاہری مادی حالات سے پتہ چل جاتا ہے کہ بات یوں ہے ۔ کوئی شخص خواب میں دیکھتا ہے کہ اس کا کوئی عزیز فوت ہو گیا۔ اب کیا ضروری ہے کہ اس کی وفات کے بعد دوسرے رشتہ دار الہا ما دعویٰ کریں کہ خواب اسی کے متعلق تھا جو فوت : واب اسی کے متعلق تھا جو فوت ہو چکا ۔ احادیث : جو فوت ہو چکا۔ احادیث میں ریل گاڑی کے متعلق پیشگوئی ہے تو کیا اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ریل الہاما اس کا دعویٰ کرے تب اس پیشگوئی کے اس کے متعلق ہونے کا یقین کیا جائے پس دعوی اور وہ بھی الہاماً ضروری نہیں ۔ اگر یہ ضروری ہوتا تو احادیث میں یہ