خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 835 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 835

خطبات محمود ۸۳۵ سال ۱۹۳۵ء رہے اور انہوں نے اُن کی بیکاری کو دور کرنے کا کوئی انتظام نہ کیا ۔ پس یہ غلطی ہے کہ ہمارے ملک میں بچپن کے زمانہ کو بیکاری کا زمانہ سمجھتے ہیں حالانکہ اگر بچپن کا زمانہ بیکاری کا زمانہ ہے تو پھر چوری چوری نہیں اور فریب فریب نہیں ۔ تمام بدکاریاں اور تمام قسم کے فسق و فجور بچپن میں ہی سیکھے جاتے ہیں ۔ اور پھر ساری عمر کے لئے لعنت کا طوق بن کر گلے میں پڑ جاتے ہیں ۔ پس بیکاری کا ایک دن بھی موت کا دن ہے جب تک ہماری جماعت اس نکتہ کو نہیں سمجھتی حالانکہ خدا تعالیٰ نے اس کو سمجھانے والے دیئے ہیں اُس وقت تک وہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی ۔ دیکھو ! رسول کریم ﷺ نے یہ بات کہی مگر لوگوں نے نہ سمجھی ۔ اب میں نے بتائی ہے اور یہ میں آج ہی نہیں کہہ رہا۔ بلکہ میں مختلف رنگوں اور مختلف پیراؤں میں کئی دفعہ اس بات کو دہرا چکا ہوں ۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ایسا ملکہ دیا ہے کہ میں اسلام کے کسی حکم کو بھی لوں ، اُسے ہر دفعہ نئے رنگ میں بیان کر سکتا اور نئے پیرا یہ میں لوگوں کے ذہن نشین کر سکتا ہوں ۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم مختلف رنگوں میں ایک بات کو سنو ، مزے لو اور عمل نہ کرو۔ اس کے نتیجہ میں تمہارا جرم اور بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ تمہیں ایک ایسا شخص ملا جس نے ایک ہی بات مختلف دلکش اور موثر پیراؤں میں تمہارے سامنے رکھی مگر پھر بھی تم نے اس کی طرف توجہ نہ کی ۔ پس تحریک جدید میں میں نے ایک یہ نصیحت کی تھی کہ بیکاری کو دور کیا جائے مگر مجھے افسوس ہے کہ جماعت نے اس طرف توجہ نہیں کی ۔ (۳) میں نے اس کا ایک مرکز بنانے کے لئے بورڈ نگ تحریک جدید قائم کیا ہے ۔ میں خوش ہوں کہ جماعت نے اس بورڈنگ میں اپنے لڑ کے داخل کرنے کے متعلق میری تحریک پر عمل کیا اور اس وقت ساٹھ سے اوپر طالب علم بورڈ نگ تحریک جدید میں داخل ہیں لیکن یہ تعداد ابھی کافی نہیں ۔ اور پھر میرے مد نظر تحریک جدید کا صرف ایک بورڈنگ نہیں بلکہ دو ہیں ۔ ایک تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ساتھ اور دوسرا مدرسہ احمدیہ کے ساتھ ۔ پھر میرے مد نظر یہ بھی ہے کہ اسی طرز پر لڑکیوں کے لئے بھی ایک بورڈ نگ قائم کیا جائے اور میرا منشاء یہ ہے کہ جماعت کے کسی لڑکے اور لڑکی کو فارغ نہ رہنے دیا جائے ۔ میرے پاس بورڈ نگ تحریک جدید کے سپرنٹنڈنٹ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ لڑکوں کے پاس ، اتنا کام ہے کہ اور زیادہ کام کے لئے ان کے پاس کوئی وقت نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں اگر اوقات کا صحیح استعمال کیا جائے تو کام نہایت قلیل عرصہ میں ختم ہو سکتا ہے اور باقی وقت اور کاموں کے لئے بیچ سکتا