خطبات محمود (جلد 16) — Page 831
خطبات محمود ۸۳۱ سال ۱۹۳۵ء قوموں کے مقابلہ میں جن کا ہر فرد خود کمانے کا عادی ہو کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے۔نیلامی میں اس قسم کا نظارہ دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ایک شخص کے پاس ایک سو روپیہ ہوتا ہے اور دوسرے کے پاس ایک سو ایک لیکن یہ سو روپیہ پاس رکھنے والا شخص وہ چیز نہیں لے سکتا جو صرف ایک روپیہ زائد پاس رکھنے والا اُس کا مخالف لے جاتا ہے۔اگر صرف ایک روپیہ زائد پاس رکھنے سے نیلامیوں میں مخالف کامیاب ہو جاتا ہے تو جہاں سو کے مقابلہ میں کسی کے پاس نوے روپے ہوں وہ کس طرح کامیاب ہو سکتا ہے ایسے شخص کا تو شکست کھا جانا یقینی ہے۔ہندوؤں کو دیکھ لو ان میں چونکہ بیکا ر کم ہیں اس لئے وہ ہر مرحلہ پر مسلمانوں کو شکست دے دیتے ہیں، اُن کی قوم دولت کمانے کی عادی ہے اور گو وہ دنیا کی خاطر دولت کماتی ہے جسے ہم اچھا نہیں سمجھتے مگر اقتصادی اور قومی طور پر اس کا نتیجہ ان کے لئے نہایت ہی خوشکن نکلتا ہے۔پس میں نے تحریک کی تھی کہ ہماری جماعت میں جو لوگ بیکار ہیں وہ معمولی سے معمولی مزدوری کرلیں مگر بیکار نہ رہیں۔لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے میری اس نصیحت پر عمل نہیں کیا گیا اور اگر کیا گیا تو بہت کم حالانکہ اگر کوئی شخص بی۔اے۔یا ایم۔اے ہے اور اُسے ملازمت نہیں ملتی اور وہ کوئی ایسا کام شروع کر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ دو یا پانچ روپے ماہوار کماتا ہے تو اس کا اُسے بھی فائدہ ہوگا اور جب وہ کام میں مشغول رہے گا تو دوسروں کو بھی فائدہ ہوگا اور اس سے عام لوگوں کو وہ نقصان نہیں پہنچائے گا جو بیکار شخص سے پہنچتا ہے۔بلکہ محنت سے کام کرنے کی وجہ سے اُس کے اخلاق درست ہوں گے۔محنت سے کام کرنے کی وجہ سے اُس کے ماں باپ کا روپیہ جو اُس پر صرف کرتے تھے ضائع نہیں ہو گا اور محنت سے کام کرنے کی وجہ سے اُس سے قوم کو بھی فائدہ پہنچے گا۔غرضیکہ وہ اپنی قوم اخلاقی حالت کو بھی درست کرے گا اور اور اقتصادی حالت کو بھی۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں جو لوگ اپنے بریکار بچہ کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا بچہ ہے ہمارے گھر سے روٹی کھاتا ہے کسی اور کو اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے وہ ویسی ہی بات کہتے ہیں جیسے کوئی کہے کہ میرا بچہ طاعون سے بیمار ہے کسی اور کو گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔یا میرا بچہ ہیضہ سے بیمار ہے کسی اور کوگھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔جس طرح طاعون کے مریض کے متعلق کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُس کے متعلق کسی اور کو کچھ کہنے کی کیا ضرورت ہے بلکہ سارے شہر کو حق حاصل ہے کہ