خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 815 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 815

خطبات محمود ۸۱۵ سال ۱۹۳۵ء وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابات کی وحی قرآنی نازل ہوئی جس میں مخفی طور پر آپ کی وفات کی خبر تھی تو آپ نے خطبہ پڑھا اور اُس میں اِس سورۃ کے نزول کا ذکر فرمایا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو اپنی رفاقت اور دنیوی ترقیات میں سے ایک کے انتخاب کی اجازت دی اور اُس نے خدا تعالیٰ کی رفاقت کو ترجیح دی۔اس سورۃ کوسن کر سب صحابہ کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھے اور سب اللہ تعالیٰ کی تکبیر کرنے لگے اور کہنے لگے کہ الْحَمْدُ لِلهِ اب یہ دن آ رہا ہے مگر جس وقت باقی سب لوگ خوش تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی چیخیں نکل گئیں اور آپ بے تاب ہو کر رو پڑے اور آپ نے کہايَا رَسُولَ اللهِ !۔پر ہمارے ماں باپ اور بیوی بچے سب قربان ہوں۔آپ کے لئے ہم ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہیں گویا جس طرح کسی عزیز کے بیمار ہونے پر بکرا ذبح کیا جاتا ہے اُسی طرح حضرت ابو بکر نے اپنی اور اپنے سب عزیزوں کی قربانی آنحضرت لے کے لئے پیش کی۔آپ کے رونے کو دیکھ کر اور اس بات کو سن کر بعض صحابہ نے کہا دیکھو! اس بڑھے کو کیا ہو گیا ہے اللہ تعالیٰ نے کسی بندہ کو اختیار دیا ہے کہ خواہ وہ رفاقت کو پسند کرے یاڈ نیوی ترقی کو اور اُس نے رفاقت کو پسند کیا یہ کیوں رورہا ہے؟ اِس جگہ تو اسلام کی فتوحات کا وعدہ پیش کیا جا رہا ہے۔حتی کہ حضرت عمر جیسے جلیل القدر صحابی نے بھی اس کا اظہار حیرت کیا۔رسول کریم ﷺ نے لوگوں کے اس استعجاب کو محسوس کیا اور حضرت ابو بکر کی بیتابی کو دیکھا اور آپ کی تسلی کے لئے فرمایا کہ ابوبکر مجھے اتنے محبوب ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ان کو خلیل بناتا۔مگر اب بھی یہ میرے دوست اور صحابی ہیں۔پھر فرمایا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ آج سے سب لوگوں کے گھروں کی کھڑکیاں جو مسجد میں کھلتی ہیں بند کر دی جائیں سوائے ابو بکر کی کھڑکی کے۔اور اس طرح آپ کے عشق کی آنحضرت ﷺ نے داد دی۔کیونکہ یہ عشق کامل تھا جس نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بتا دیا کہ اس فتح و نصرت کی خبر کے پیچھے آنحضرت ﷺ کی وفات کی خبر ہے اور آپ نے اپنی اور اپنے سب عزیزوں کی جان کا فدیہ پیش کیا کہ ہم مر جائیں مگر آپ زندہ رہیں۔رسول کریم ﷺ کی وفات پر بھی حضرت ابو بکر نے اعلیٰ نمونہ عشق کا دکھایا۔غرض حضرت ابو بکر نے غار ثور میں اپنی جان کے لئے گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا بلکہ رسول کریم کے لئے۔اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اُن کو خاص طور پر تسلی دی۔اس واقعہ کی طرف ان آیات