خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 812 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 812

خطبات محمود ۸۱۲ سال ۱۹۳۵ء مدینہ کو ہجرت کر گئے تو آنحضرت ﷺ کو بھی بعض صحابہ نے مشورہ دیا کہ آپ بھی ہجرت کریں ۔ مگر آپ نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ اللہ تعا راب دیا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آنے پر کروں گا ۔ حضرت ابو بکر نے بھی کئی بار ہجرت کی خواہش کی مگر اُن کو بھی آپ نے روک دیا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ الہا ما آپ کو معلوم ہو چکا تھا کہ وہ آپ کے ساتھی ہونگے ۔ ایک دن آپ حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور فرمایا کہ آج ہجرت کا حکم ۔ اور مجھے ہو گیا ہے اس پر حضرت ابوبکر نے کہا کہ يَا رَسُولَ اللہِ مجھے بھی ساتھ چلنے کا موقع دیجیے۔ میرے پاس ایک تیز رفتار اونٹنی ہے اِسے ہدیہ قبول فرمائیے ۔ آپ نے فرمایا کہ ساتھ چلنے کی تو صلى الله علي اجازت ہے مگر اونٹنی میں تحفہ نہیں لوں گا بلکہ اُس کی قیمت دوں گا ۔ رات کے وقت آنحضرت ایسے وقت میں گھر سے نکلے جب ہر قوم کا ایک ایک آدمی تلواریں لئے مکان کے باہر اس نیت سے کھڑا تھا کہ آپ باہر نکلیں تو با ہر نکلیں تو قتل کر دیا جا۔ کر دیا جائے ۔ آپ کو اُن کے اِس منصوبہ کا منصوبہ کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو چکا تھا۔ اس لئے آپ نے حضرت علی کو اپنے بستر پر لٹا دیا تا کفار مطمئن رہیں کہ آپ گھر میں سو رہے ہیں ۔ وہ دروازوں کی دراڑوں میں سے دیکھتے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ گھر سے باہر آئیں تو آپ کو قتل کریں ۔ مگر آنحضرت ا اندھیرے میں نکل کر ان کے سامنے باہر نکل گئے اور کفار سمجھے کہ یہ کوئی اور شخص ہے ، آپ اندر لیٹے ہوئے ہیں ۔ رسول کریم ﷺ نے مقررہ جگہ پر پہنچ کر حضرت ابو بکر کو ساتھ لیا اور غارثور پر جاپہنچے ۔ میں اُس غار کے قریب تک گیا ہوں لیکن افسوس ہے کہ دل کے ضعف کی وجہ سے میں عین اُس کے دہانہ پر نہیں پہنچ سکا۔ سو پچاس گز کے فاصلہ پر تھک کر رہ گیا ۔ رستہ سخت دشوار گزار ہے اور میرا دل چونکہ زیادہ چڑھائی پر چڑھنے سے دھڑ کنے لگتا ہے اس لئے میں عین وہاں تک نہ پہنچ سکا مگر اپنے ایک ساتھی کو وہاں تک بھیجا۔ جس نے بتایا کہ کئی گز چوڑا منہ ہے غرض آنحضرت الله رت حضرت ابو بکر کو لیکر وہاں پہنچ گئے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ چونکہ تہجد کی نماز پڑھنے کے لئے کعبہ میں جایا کرتے تھے اس لئے کفار کا ارادہ یہ تھا کہ جب تہجد کے لئے گھر سے باہر نکلیں گے تو قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ آپ جب گھر سے نکلے تو کسی نے یہ دریافت ہی نہیں کیا کہ کون ہے ۔ انہیں یقین تھا کہ آپ لیٹے ہوئے ہیں ( چار پائی پر یا زمین پر جہاں بھی آپ سوتے تھے ) کیونکہ حضرت علیؓ انہیں آپ کی جگہ پر لیٹے ہوئے نظر آتے تھے۔ صبح کے وقت جب آپ گھر سے نہ نکلے بلکہ ان کی جگہ حضرت علیؓی گھر سے نکلے تو اُن کو بہت حیرت ہوئی اور اُن