خطبات محمود (جلد 16) — Page 803
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء جاؤ وہاں کوئی خطرہ نہیں۔پھر ریلوں اور جہازوں کا سفر ہے اور زائد چیز یہ ہے کہ امداد کی بھی صورت ہے مگر ان سب باتوں کے باوجود تمہارے اندر وہ جوش نہیں جو پہلے زمانہ میں صحابہ کے اندر تھا حالانکہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو ہمارے لئے اسوہ حسنہ بنایا ہے اور رسول کریم ﷺ کی زندگی سے مراد صرف آپ کی ذاتی زندگی ہی نہیں بلکہ صحابہ بھی اس میں شامل ہیں وہ بھی آپ کی زندگی کا جزو ہیں اور جیسی قربانیاں انہوں نے کیں ایسی ہی خدا تعالیٰ ہم سے بھی چاہتا ہے۔اگر ہم میں ایسے لوگ پیدا نہ ہوں تو ہم کس طرح اُن جیسا ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔اس کے لئے ایسے نو جوانوں کی ضرورت ہے جو تعلیم سے فارغ ہو چکے ہوں اور باہر نکل جائیں مگر ہزاروں ایسے فارغ التحصیل نوجوان ہیں جو گھروں میں بیٹھے روٹیاں تو ڑ رہے ہیں اور ماں باپ کے لئے بوجھ بنے ہوئے ہیں مگر کوئی مفید کام نہیں کرتے پس میں جماعت کے دوستوں کو پھر خدا تعالیٰ کے الفاظ میں توجہ دلاتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَالَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ انَّا قَلْتُمُ إِلَى الاَرضِ۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اس کی وجہ بتاؤ اگر تم مؤمن نہیں ہو تو پھر تو یہ کہہ سکتے ہو کہ ہمیں کوئی علم نہ تھا کہ حضرت مرزا صاحب بچے ہیں پھر تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ ہمارا اس بات پر ایمان نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پھیل جانے کا حکم ہے۔پھر تمہیں یہ بھی اختیار ہے کہ کہہ دو کہ قرآن کریم میں اس کے لئے ثواب اور انعام کا جو وعدہ ہے ہم اُس پر یقین نہیں رکھتے لیکن جب تم کہتے ہو کہ ہم ایمان لائے ، اور جب تمہیں علم ہے کہ تبلیغ کا قرآن کریم میں عام حکم ہے اور صراحتا انفرو ا کا حکم موجود ہے یعنی دُور نکل جاؤ اور کلام الہی کو پھیلاؤ۔پھر قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کلام کے بڑے بڑے اجر ہیں تو ان سب باتوں کے ماننے کے باوجود تم بتاؤ کہ تمہیں کیا عذر ہے کہ جب تم دین کی خدمت کے لئے جماعتی طور پر بلایا جاتا ہے تو تم فوراً اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے۔اِنْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللہ میں دُور دُور نکل جانے کا بھی حکم ہے اور چند ماہ کے وقف کی جو صورت میں نے پیش کی ہے وہ بھی اس میں شامل ہے کیونکہ اِنفِرُوا کے معنے صرف جلدی سے نکل کھڑے ہونے کے بھی ہوتے ہیں۔کئی لوگ یہ عذر کر دیتے ہیں کہ ہم گھروں میں ہی تبلیغ کرتے ہیں مگر گھروں میں یکسوئی سے تبلیغ نہیں ہو سکتی۔وہاں آدمی بیوی بچوں کے مشاغل میں الجھا رہتا ہے۔کبھی بچہ بیمار ہو گیا تو اُس کی طرف متوجہ ہونا پڑا، کبھی اور طرف توجہ بٹ گئی۔لیکن دوسرے علاقہ میں دوسرے