خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 796 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 796

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء لیاقت والے حصہ لے سکتے تھے۔کیونکہ وہ اپنے طبقہ اور اپنی جتنی لیاقت رکھنے والوں میں تبلیغ کر سکتے تھے۔کون ایسا آدمی ہو سکتا ہے جس کی لیاقت کا آدمی اور کوئی دنیا میں موجود نہ ہو۔کیا تم خیال کر سکتے ہو یا مجھے یہ ماننے پر آمادہ کر سکتے ہو کہ کوئی احمدی ایسا بھی ہے جو سب سے زیادہ جاہل ہے اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کا ہر فرد اس سے زیادہ لائق ہے۔احمدیت تو ایک ایسی چیز ہے جس کے آتے ہی عقل بڑھ جاتی اور علم روشن ہو جاتا ہے۔معمولی لیاقت کے احمدی بڑے بڑے مولویوں کا ناطقہ بند کر دیتے ہیں۔ضرورت صرف ایمان کی ہوتی ہے علم کی نہیں اگر ایمان ہو تو اللہ تعالیٰ خود راہنمائی کرتا ہے۔کئی دفعہ میں نے پیرے کا واقعہ سنایا ہے وہ ایک پہاڑی آدمی تھا جسے گینٹھیا کی بیماری تھی۔اس کے رشتہ دار وں کو کسی نے مشورہ دیا کہ یہاں اس کا علاج نہیں ہو سکے گا اسے پنجاب چھوڑ آؤ۔چنانچہ وہ اسے لے کر آئے اور گورداسپور کے قریب جب پہنچے تو کسی نے بتایا کہ قادیان میں ایک ولی اللہ ہیں وہ ایسے لوگوں کی خبر گیری کرتے ہیں ان کے پاس لے جاؤ۔چنانچہ وہ اسے یہاں لے آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس چھوڑ کر چلے گئے۔حضور نے اُس کا علاج کیا اور وہ اچھا ہو گیا۔وہ بلکہ اُس کا سارا خاندان بالکل جاہل تھا اور دین کی انہیں کوئی خبر نہ تھی۔ایک دفعہ اُس سے یا شاید اُس کے ایک بھتیجے سے جو کبھی کبھی یہاں آجایا کرتا تھا ، حضرت خلیفہ اول نے دریافت فرمایا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ پھر بتاؤں گا اور کچھ دیر بعد ایک کارڈ آپ کے پاس لایا کہ ہمارے گاؤں کے نمبر دار کولکھ دیں آپ نے پوچھا کہ کیا لکھنا ہے؟ تو اس نے بتایا کہ آپ نے میرا مذہب دریافت کیا تھا۔میں نمبر دار کو لکھ کر یہی معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میرا مذہب کیا ہے۔پھر وہ لوگ اتنے وحشی تھے کہ ایک دفعہ اُس کا ایک رشتہ دار یہاں آیا اور آٹھ آنہ کا گھی لایا جو ایک بلی کھا گئی۔اُس نے اُس بلی کو مار کر اُس کی انتڑیاں نچوڑ کر رکھ لیں کہ ان میں میرا گھی ہے۔غرض وہ خاندان کا خاندان بالکل جاہل اور بے وقوف تھا۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے پیرے سے کہا کہ اگر تم ایک دن پورے پانچ وقت کی نمازیں باجماعت ادا کرو تو میں تمہیں دو روپے انعام دوں گا۔آپ کی غرض یہ تھی کہ اس طرح اسے نماز کی عادت پڑ جائے گی۔اُس نے عشاء سے نماز پڑھنی شروع کی اور اگلی مغرب کو پانچ پوری ہونی چاہئیں تھیں۔اُس زمانہ میں مہمان تھوڑے ہوتے تھے اور اُن کا کھانا گھر میں ہی تیار ہوتا تھا۔مغرب کے وقت جب کھانا تیار ہوا تو اندر سے