خطبات محمود (جلد 16) — Page 795
خطبات محمود ۷۹۵ سال ۱۹۳۵ء گالیاں دینے والوں کے ہونٹ بند کر دیں گے۔بات یہ ہے کہ گالیاں دشمن نہیں دیتے بلکہ تم خود دیتے ہو۔تمہارا تقویٰ اور اخلاص تمہاری قربانی اور ایثار ابھی اُس مقام پر نہیں پہنچا جس پر اللہ تعالیٰ پہنچانا چاہتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو انگیخت کرتا ہے کہ تا اُن سے پٹوا کر تمہاری اصلاح کر دے۔پس ان گالیوں کو بند کرانا تمہارے اپنے اختیار میں ہے۔تم اگر آج جھوٹ ، فریب ، دغا بازی ، لڑائی ، فساد اور دیگر بد عادات کو گلیہ ترک کر دو، با قاعدگی سے سب کے سب با جماعت نمازیں پڑھنے لگ جاؤ، تقویٰ پیدا کر لو، قربانی کے انتہائی مقام پر پہنچ جاؤ جہاں پہنچ کر انسان کی نگاہ میں اُس کی جان اور اُس کے مال اور اُس کے اقرباء کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔اسی طرح تم ایثار کے اور حسنِ سلوک کے اور اپنے غریب بھائیوں کی اعانت اور ہمدردی کے مقام پر مضبوطی سے قائم ہو جاؤ۔کبر اور خود پسندی کو چھوڑ دو تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے ایک منٹ میں نازل ہو کر تمام فتنوں کو دور کر دیں گے۔پس اپنے نفسوں کی اصلاح کرو آسمان کی طرف دیکھو دنیا کی طرف اپنی نظریں نہ اُٹھاؤ۔اور اچھی طرح یاد رکھو کہ جتنی دیر تم اپنی اصلاح نہ کرو گے یہ گالیاں برا برملتی رہیں گی۔پس یاد رکھو کہ یہ گالیاں جماعت کے کمزور لوگ دلوا رہے ہیں۔دشمن تو صرف تقدیر الہی کے آلے ہیں میرا یہ مطلب نہیں کہ دشمن کی گالیوں کو بے شرم ہو کر سنتے جاؤ ان کا علاج کرنے کی ظاہری تدابیر اختیار کرنا بھی تمہارا فرض ہے اور اس میں کمزوری دکھانے پر بھی تم خدا تعالیٰ کے سامنے پوچھے جاؤ گے مگر حقیقی علاج وہی ہے جو میں نے ابھی بتایا ہے۔اب میں تحریک جدید کے سلسلہ میں جو خطبات دے رہا ہوں اُن کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔گزشتہ سال میں نے انہیں تحریکیں کی تھیں جن میں سے بعض کے متعلق میں کچھ باتیں بیان کر چکا ہوں اور ایک کے متعلق آج بیان کرتا ہوں۔میں نے تحریک کی تھی کہ تبلیغ کیلئے ایک ایک دو دو اور تین تین ماہ وقف کریں باقی ساری تحریکیں ایسی تھیں جن میں ثواب دوسرے کی معرفت حاصل کیا جا سکتا ہے۔لیکن یہ ایک ایسی تحریک ہے جس سے براہ راست ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے اس لئے اس کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت تھی مگر افسوس کہ چند سو دوستوں کے سوا باقی کسی نے اپنا نام پیش نہیں کیا۔حالانکہ جماعت میں سے ہزار ہا لوگ اس کے لئے اپنے آپ کو فارغ کر سکتے تھے۔یہ ایک ایسا کام ہے جس میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ، زمیندار ، تاجر ، ملازم، ہر پیشہ اور فن سے تعلق رکھنے والے اور ہر