خطبات محمود (جلد 16) — Page 775
خطبات محمود ۷۷۵ سال ۱۹۳۵ء دیکھ لو اسی سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ایک نظام کا پابند ہو جانے سے انسانی زندگی میں کس قدر انقلاب پیدا ہو جاتا ہے ۔ تم کسی فرد محکمہ یا حکومت کے دفتر میں پانچ روپیہ پر ملازم ہوتے ہو، یا دس روپیہ پر ملازم ہوتے ہو ، یا بیس روپیہ پر ملازم ہوتے ہو ، یا پچاس روپیہ پر ملازم ہوتے ہو، یا سو دو سو اور چار سو روپیہ پر ملازم ہوتے ہو، یا ہزار دو ہزار روپیہ پر ملازم ہوتے ہو ۔ غرض خواہ تم چھوٹی سے چھوٹی رقم کے ملازم ہو یا بڑی سے بڑی رقم کے ملازم ہو ، کیا تم ایک دن کے لئے بھی غیر حاضر رہ سکتے ہو؟ اور کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تمہارا اگر جی نہ چاہے تو آ ا نہ چاہے تو آپ ہی آپ کام کرنا ترک کر دو؟ مگر اس کے لئے تمہیں کیا ملتا ہے پانچ روپے، دس روپے یا ہیں پچاس اور سو روپے۔ اس کے مقابلہ میں تم اللہ تعالیٰ کی فوج میں داخل ہوتے ہو اور خدا تعالیٰ تمہارے سپرد یہ کام کرتا ہے کہ تم پانچ وقت کی نمازیں بالالتزام جماعت کے ساتھ ادا کرو ۔ تم انصاف سے بتاؤ کہ کیا تم ان نمازوں پر اسی طرح با قاعدگی رکھتے ہو جس طرح پانچ روپیہ ماہوار کا ملازم اپنے کام کو باقاعدہ کرتا ہے؟ شاید سو میں سے ایک کہہ سکے کہ ہاں میں نمازوں کے متعلق پوری باقاعدگی سے کام لیتا ہوں باقی ننانوے کو ماننا پڑے گا کہ وہ نمازوں پر اتنی بھی باقاعدگی نہیں رکھتے جتنی پانچ روپیہ والا ملازم اپنے کام میں با قاعدگی رکھتا ہے اب بتاؤ جہاں کوئی شخص کھوٹے پیسے جتنا کام نہیں کرتا وہاں اُسے جنت کی کیا امید ہوسکتی ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ جب خدا تعالیٰ سے ایک معاہدہ ہو چکا ہے تو پھر خواہ مینہہ آئے ، بارش آئے ، اولے برسیں ، آندھیاں چلیں ، ذلت آئے ، موت آئے ، انسان گھسٹتا جائے اور مسجد میں پہنچ کر نماز ادا کرے ۔ یہاں کی نوکریوں کو جانے دو ممکن ہے قومی کام سمجھ کر بعض لوگ سستی کر جاتے ہوں ۔ لاہور جا کر دیکھ لو ایک دن بھی اگر کوئی غیر حاضر رہے تو اُس سے سخت باز پرس کی جاتی ہے ۔ ابھی ایک احمدی کا معاملہ زیر تفتیش ہے اس نے مجھے دعا کے لئے بھی لکھا ہے وہ چھٹی پر گیا اور بخار ہو گیا جس پر صرف ایک دن لیٹ پہنچا اس پر اُسے دھمکی دی گئی ہے کہ تمہیں ملازمت سے الگ کر دیا جائے گا۔ وہاں ایک دن کے ناغہ پر یہ حال ہوتا ہے اور یہاں یہ حال ہے کہ کوئی پانچ میں سے تین نمازیں باجماعت پڑھ لیتا ہے اور کوئی پانچ میں سے دو اور یہ خیال ہی نہیں آتا کہ میں کوئی بُری بات کر رہا ہوں ۔ ظلم یہ ہے کہ دل اتنے مردہ ہو گئے ہیں کہ کبھی بھولے سے بھی یہ خیال نہیں آتا کہ ہم تا کہ ہم کوئی بُری حرکت کر رہے ہیں ۔ اور جب کوئی پوچھے کہ آج عصر میں آپ نہیں آئے تو نہایت بے تکلفی سے کہہ