خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 770 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 770

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء فیصدی حصہ احمدیوں کے ہاتھ میں ہے۔اور گو ہماری ظاہری تجارت بھی دوسروں سے نمایاں ہے لیکن بعض اندرونی تجارتیں ہیں۔جیسے بعض عورتیں تجارت کرتی ہیں ، پھر بعض عارضی طور پر تجارت کر لیتے اور بعد ازاں چھوڑ دیتے ہیں ان تمام تجارتوں کو اگر ملا لیا جائے تو اسی فیصد تجارت احمد یوں کی بنتی ہے حالانکہ اُس وقت ایک فیصدی تجارت بھی احمدیوں کے ہاتھ میں نہ تھی۔اس میں شبہ نہیں کہ ابتدا میں اس کام کے شروع کرتے وقت بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بار بار لوگوں کو ہدایتیں دینی پڑتیں۔اور پھر ان لوگوں کے لئے جرمانے مقرر تھے جو معاہدہ میں شامل نہ ہونے والوں سے سودا خرید تے اور اپنے عہد کو توڑ دیتے۔لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ جماعت کو اس بات کی عادت ہو گئی۔اب بھی بعض لوگ اس معاہدہ کو کبھی کبھی تو ڑ دیتے ہیں مگر بہت کم۔اور جو پابندی کرتے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔شروع میں بے شک ہمیں نقصان بھی ہوا۔چنانچہ جماعت کے لوگوں کو مہنگا سودا خریدنا پڑتا۔بعض دفعہ بٹالہ اور بعض دفعہ امرتسر سے چیزیں منگوانی پڑتیں۔لیکن آخر نتیجہ یہ ہوا کہ تجارت کا اکثر حصہ احمدیوں کے ہاتھ میں آ گیا اور قادیان کی ترقی جتنی سرعت سے اس کے بعد ہوئی اتنی سرعت سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔بلکہ اس معاہدہ کے نتیجہ میں سینکڑوں آدمیوں کو قادیان میں بسنے کا موقع مل گیا۔کسی کو معماروں کی صورت میں کسی کو نجاروں کی صورت میں ، کسی کو لوہاروں کی صورت میں اور کسی کو ڈ کا نداروں کی صورت میں اور میں سمجھتا ہوں اس تحریک کے نتیجہ میں کم از کم تین ہزار آدمی قادیان میں بڑھے ہیں۔اور اس سے جو مرکز سلسلہ کو تقویت پہنچی اور جماعت کی مالی حالت کی درستی پر اس کا اثر پڑا وہ مزید برآں ہے۔اور میں سمجھتا ہوں اگر ہمارے دوست اب بھی ہمت کریں تو اردگرد کے دیہات کی تجارت کو بھی اپنے قبضہ میں لا سکتے ہیں۔پس استقلال سے کام لینے کی ایک مثال قادیان کی موجود ہے اُس وقت بار بار لوگ کہتے تھے کہ ہندوؤں سے قرض مل جاتا ہے احمدی سرمایہ دار نہیں۔اور احمدی زمیندار کہتے کہ ان کی گردنیں ساہوکاروں کے قبضہ میں ہیں۔اگر پہلے طریق کو ترک کر دیا گیا تو وہ نوٹس دے کر ہمیں پکڑوا سکتے ہیں۔یہ سب مشکلات موجود تھیں صرف ملازمت کا سوال نہیں تھا لیکن باقی دو باتیں موجود تھیں یعنی ایسی قوم سے مقابلہ تھا جس کے ہاتھ میں سینکڑوں سال سے تجارت چلی آ رہی ہے۔پھر مقابلہ تھا اُن ساہوکاروں سے جن کے قبضہ میں زمینداروں کی گرد نہیں تھیں مگر استقلال اور ہمت سے کام لیتے ہی حالت بدل گئی اور اب یہ حال ہے