خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 760 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 760

خطبات محمود 24۔سال ۱۹۳۵ء زندگی ملتی ہے۔یہ دنیا سب ویران اور سنسان پڑی ہے گو تمہیں یہ آبادنظر آتی ہے مگر خدا کی نظروں میں ویران ہے۔تم دہلی ، لاہور اور دوسرے شہروں میں جاتے ہو تو سمجھتے ہو کہ یہ شہر آباد ہیں اور تم زندوں میں پھر رہے ہو مگر تمہاری آنکھیں دھوکا کھا رہی ہوتی ہیں۔وہ زندہ نہیں مُردہ ہیں کیونکہ خدا کا نام اُن میں نہیں۔جب تم خدا کا نام وہاں پہنچا دو گے تب اُن کو زندگی ملے گی۔وہ شہر آباد ہوں گے اور تم اُن کے آدم ہو گے پس نوجوان ہمت کریں اور باہر نکلیں۔تم میں سے ایک نوجون افغانستان ہو آیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ تم وہ کام نہ کر سکو جو تمہارا ایک بھائی کر آیا ہے۔وہ یہاں متفرق کلاس کا طالب علم تھا اور مجھے یا کسی کو اطلاع دیئے بغیر نکل کھڑا ہوا اور اب واپسی پر اُس کا ذکر کیا ہے۔جب اُس نے یہ کام کیا تو کیا تم میں سے بعض اس سے بھی بڑے کام نہیں کر سکتے ؟ ڈاکٹر اور حکیم بہت کام کر سکتے ہیں۔ہم نے ایک ڈاکٹر کو بھیجا ہے اور اُس کا کام بہت اچھی طرح چلنے کی امید ہے کیونکہ ہمیں جو اطلاع آئی تھی اُس میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر آنکھ کی بیماریوں کا علاج جانتا ہو تو اسے یہاں جلد قبولیت حاصل ہوسکتی ہے اور چونکہ یہ نوجوان یہ کام جانتا ہے اس لئے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بہت جلد وہاں عزت اور رتبہ حاصل کر لے گا اور شہر کے معززین میں رسوخ حاصل کر سکے گا تو طب پڑھے ہوئے بہت اچھا کام کر سکتے ہیں ضرورت صرف حوصلہ کی ہے مگر افسوس کہ بعض وہ لوگ جن کو میں نے منتخب کیا حوصلہ مند نہیں ثابت ہوئے۔سٹریٹ سیٹلمنٹس میں تین نوجوانوں کو بھیجا گیا ان میں سے دو اس طرح وہاں جا کر غائب ہو گئے ہیں کہ گویا کبھی تھے ہی نہیں۔بہر حال وہاں تین احمدی پہنچ چکے ہیں اور چاہے وہ کا روبار میں ہی پھنس گئے ہوں اور اس جوش سے تبلیغ نہ کرتے ہوں اور اپنی رپورٹوں کو اس طرح قائم نہ رکھ رہے ہوں مگر پھر بھی ان کے ذریعہ احمدیت کا نام تو ضرور پھیل رہا ہے۔ان سے ملنے والوں میں ہی احمدیت پھیلے گی اور بعض خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ پھیل رہی ہے۔اور احمدیت تو کوئی ایسی چیز نہیں کہ ایک دفعہ دل میں گڑ کر پھر نکل سکے۔اس لئے وہ گو اتنا جوش نہ دکھائیں پھر بھی کامیابی کی بہت امید ہے۔اس طرح رقم بھی بہت تھوڑی خرچ ہوتی ہے سال بھر کیلئے ایک مبلغ بھیجنے پر اڑھائی تین ہزار کا خرچ ہوتا ہے اور ان کے بھیجنے پر تین چار سو سے زیادہ نہیں ہوا۔اور وہ کچھ نہ کچھ کام کر رہے ہیں اگر کسی وقت اللہ تعالیٰ جوش پیدا کر دے تو اور زیادہ کامیابی کی امید ہے ورنہ خدا تعالی مقامی لوگوں میں سے ہی ان کے ذریعہ کوئی اچھا کام کرنے والا آدمی پیدا کر دے گا۔