خطبات محمود (جلد 16) — Page 742
خطبات محمود ۷۴۲ سال ۱۹۳۵ء ہوئی ہے ۔ وہ اِن سب باتوں کو بھول گئی اور اسے صرف یہ بات یاد رہی کہ اسے اس کا بچہ مل گیا ہے مگر یہ اطمینان اسے کب حاصل ہوا ؟ جب اُسے اُس کا بچہ مل گیا اس سے پہلے اُس نے کوئی آرام نہیں کیا کسی بات سے تسلی نہیں پائی کسی خوف نے اسے نہیں ڈرایا۔ اب میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہماری محبت اللہ تعالیٰ سے اتنی بھی نہیں جتنی اس عورت کو اپنے بچہ سے تھی ؟ کیا جس طرح وہ عورت تمام خطرات سے غافل ہو کر اپنے بچہ کی تلاش میں مشغول تھی اسی طرح ہم اپنے ازلی ابدی محبوب کی تلاش میں نہیں لگ سکتے ؟ اور کیا ذرا ذرا سا خطرہ اور چھوٹی چھوٹی قربانی ہمیں ڈرا دیتی ہے؟ یا بغیر اس کے کہ وہ پیارا ہمیں ملے ہم تسلی پا کر بیٹھ جاتے اور بغیر اس کے کہ اس کا دیدار ہمیں حاصل ہو ہم جد و جہد کو چھوڑ بیٹھتے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو لعنت ہے ہمارے عشق پر اور لعنت ہے ہماری محبت پر ۔ ( الفضل ۲۹ رنومبر ۱۹۳۵ء ) ل التوبة : ۳۸ تا ۴۲ التوبة : ١ تا ٦ بخاری کتاب بدء الوحى باب كَيْفَ كَانَ بَدْء الوحي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ قمچیاں : کوڑے۔ تازیانے۔ چابکیں ۔ چھڑی ۔ پتیلی اور لچکدار ٹہنیاں ه تذکره صفحه ۱۰ ۔ ایڈیشن چہارم تذکرہ صفحہ ۳۱۲۔ ایڈیشن چہارم ك بخارى كتاب الادب باب رحمة الولد و تقبیله و معانقته