خطبات محمود (جلد 16) — Page 737
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء نائب وائسرائے کے نام سے ان کا دم خشک ہونے لگتا ہے ، کتنے راجے ، اور مہا راجے ہیں کہ وائسرائے نہیں پولیٹیکل سیکرٹری کے نام سے ان کا دم خشک ہونے لگتا ہے ، کتنے راجے اور مہا راجے ہیں کہ پولیٹیکل سیکرٹری نہیں ریذیڈنٹ کا نام لینے سے اُن کا دم خشک ہونے لگتا ہے۔پھر کتنے راجے اور مہاراجے ہیں کہ ریذیڈنٹ نہیں ریزیڈنٹ کے نیچے جو سیکرٹری ہوتا ہے اُسی کا نام لینے سے ان کا دم خشک ہونے لگتا ہے۔وہ ان حکام کی دعوتیں کرتے ، خاطر و مدارات کرتے اور انہیں خوش رکھنے کے لئے کئی کئی طریق اختیار کرتے ہیں۔یہ علامت ہے اس بات کی کہ انگلستان کا بادشاہ بہت بڑا ہے۔پھر کیا تم سمجھتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جسے اللہ تعالیٰ نے اولین و آخرین کا سردار قرار دیا ، جسے افضل الرسل اور خاتم النبین کہا اور جس کی غلامی میں بنی نوع انسان کی نجات کو محصور قرار دیا اُس کا نائب اور بروز ہونا کوئی معمولی بات ہے۔جسے خدا تعالیٰ نے سید الکونین قرار دیا ، جسے خدا تعالیٰ نے سید ولد آدم کہا ، جسے خدا تعالیٰ نے اپنا محبوب کہا ، اور جسے خدا تعالیٰ نے نہ صرف محبوب بلکہ محبوب گر کہا جو شخص اُس کے نام پر آتا، جو شخص اُس کے قدم پر آتا اور جو شخص اُس کی بروز یت کی چادر اوڑھ کر خدا سے نبی اور رسول کا لقب پاتا ہے کون ہے جو اس کے مقابل پر کھڑا ہو سکے۔کون ہے جو اس کی بات کو رڈ کر کے امن اور سلامتی کی زندگی حاصل کر سکے۔پس خدا تعالیٰ نے تم میں نبی بھیجا بہت بڑا نبی۔ایسا نبی جسے محمد ﷺ کی کامل غلامی کا شرف حاصل تھا۔اُس نے اپنی آواز بلند کی اور دنیا کو خدا تعالیٰ کے قرب کے لئے بلایا اور جب خدا تعالیٰ نے اُسے اُٹھا لیا جیسا کہ سب انبیاء اٹھائے گئے تو اُس کے بعد اُس کے خلفاء آئے۔وہ خلفاء بھی ویسا ہی گوشت پوست رکھتے ہیں جیسا کہ عام انسان اور درحقیقت کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جو گوشت پوست نہ رکھتا ہو پس وہ انسان ہیں تمہارے جیسے مگر بسا اوقات جب خدا تعالیٰ اُن کی زبان سے بول رہا ہوتا ہے تو وہ اُن کی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی بات کہلاتی ہے اور جو شخص اُن کی بات پر کان نہیں دھرتا وہ اسی طرح خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوتا ہے جس طرح ڈ نیوی بادشاہوں کے سامنے۔ان کے نائبوں کی ہتک کرنے والے جواب دہ ہوتے ہیں اور وہ ویسے ہی قابل گرفت ہوتے ہیں جس طرح دُنیوی بادشاہوں کے سامنے اُن کے نائبوں کی ہتک کرنے والے قابل گرفت ہوتے ہیں۔کس طرح ممکن ہے کہ دُنیوی بادشاہ اپنے نائبوں کی ہتک کرنے والے کو سزا د یں لیکن خدا تعالیٰ اپنے نائبوں کی بات پر کان نہ دھرنے والوں کو یونہی چھوڑ دے۔پس اس