خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 710 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 710

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء اقرار کرے کہ صرف ایک سالن استعمال کرے گا سوائے اس کے جو یہ اقرار نہ کرنا چاہتا ہو۔مگر یہ چیز ایسی ہے کہ جو اسے اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں اس کے اندر ضرور نفاق کی رگ ہوگی۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ دین کے لئے قربانی کرنے کی غرض سے ماحول پیدا کرنے کے لئے جو شخص زبان کا چسکا بھی نہیں چھوڑ سکتا وہ دین کے لئے قربانی کرنے والا سمجھا جا سکے۔ایسا انسان کس منہ سے دعوی کر سکتا ہے کہ وہ خدا کے لئے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے۔جب وہ ایک سے زیادہ سالن قربان نہیں کر سکتا تو کس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ جان قربان کر دے گا ایسا شخص فریب خوردہ ہے۔اس مطالبہ کو میں پھر دُہراتا ہوں اور تمام جماعتیں اپنے ہر فرد سے اقرار لیں کہ وہ ایک ہی کھانا استعمال کرے گا۔جسے میٹھا کھانے کی عادت ہو وہ اور دوسرے لوگ بھی کبھی کبھی میٹھا استعمال کر سکتے ہیں مگر یہ یاد رکھیں کہ تکلف نہ ہو۔ایک کھانے میں بھی انسان تکلف کر سکتا ہے۔امراء پر اس قربانی کا زیادہ اثر ہوگا مگر غرباء بھی اس قربانی میں شریک ہو سکتے ہیں۔کیونکہ اول تو وہ بھی کبھی کبھی دو کھانے تیار کر لیتے ہیں دوسرے ثواب نیت کا ہوتا ہے کسی کو کیا پتہ ہے کہ اگر آج وہ غریب ہے تو کل امیر نہیں ہو جائے گا۔اگر وہ خدا سے اقرار کرے کہ حالت بدل جانے پر بھی اسی حالت پر قائم رہے گا تو کون کہہ سکتا ہے کہ ایسے شخص کو اس کی نیت کا ثواب نہیں ملے گا بلکہ اس میں فاقہ کش بھی شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ بعض اوقات انہیں بھی صدقہ میں دوکھانے مل جاتے ہیں اور اگر وہ ایک کی قربانی کر دیں تو یہ قربانی امیر سے زیادہ سمجھی جائے گی۔امیر کو روز میسر تھا مگر فاقہ کش کو اتفاق سے مل گیا اور اُس نے خدا کے لئے اپنی خواہش کی قربانی کر دی۔تو امیر غریب سب کو اس میں شامل ہونا چاہئے۔ہاں مہمان کے لئے ایک دو روز تک ایک سے زیادہ کھانے تیار کرانے کی اجازت ہے مگر جس نے کئی ماہ رہنا ہو وہ مہمان نہیں سمجھا جاسکتا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمانی تین روز کی ہے۔اور اگر مہمان بے تکلف ہو تو پسندیدہ امر یہی ہے کہ اس کے لئے بھی ایک ہی کھانا ہو۔ہاں جس مہمان سے بے تکلفی نہیں ، اس کے لئے ایک سے زیادہ سالن بھی تیار کئے جا سکتے ہیں کیونکہ واقف مہمانوں کے متعلق تو انسان جانتا ہے کہ وہ کیا چیز پسند اور کیا نا پسند کرتے ہیں مگر نئے مہمان کے متعلق ایسا علم نہیں ہوتا۔اور بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بعض چیزیں نہیں کھاتے۔مثلاً میں جب سے پیدا ہو ا ہوں آج تک حلوہ کدو کبھی خوشی سے نہیں کھایا ہاں بعض جگہ مجھے مجبوراً کھانا پڑا اور میں نے کھایا۔مگر اس حالت میں کہ اندر سے