خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 705 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 705

خطبات محمود ۷۰۵ سال ۱۹۳۵ء رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اُس نے کہا کہ يَا رَسُولَ اللهِ! میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ زکوۃ دیتے ہیں ، صدقہ خیرات کرتے ہیں ، غرباء کو کھانا کھلاتے ہیں ، ننگوں کو کپڑے دیتے ہیں تو میرے دل میں حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش! میں بھی کروں ۔ آپ دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے بہت سا مال دے اس کے لئے ابتلاء مقدر ہوگا۔ آپ نے دعا کی اور وہ اتنا مال دار ہو گیا کہ صحابہ کا بیان ہے کہ اُس کے مال سے ایک وادی بھر جاتی تھی ۔ رسول کریم ﷺ کی طرف سے ایک شخص اُس کے پاس زکوۃ لینے کے لئے گیا تو اُس نے کہا کہ بیوی بچوں کے اخراجات پورے کریں ، مال مویشی کے چارہ اور ان کی دیکھ بھال کے لئے نوکروں پر خرچ کریں یا زکوۃ دیں ۔محنت ہم کرتے ہیں اور زکوۃ دوسروں کو دیں ۔ اس شخص نے آکر رسول کریم ﷺ کو اُس کا کو اُس کا جواب سنا دیا ۔ آپ کا کا قاعدہ تھا کہ ایسے لوگوں کو سزا دیتے تھے جو زکوۃ نہ دیں لیکن اس کے متعلق آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اسے یہ سزا دی کہ فرمایا آئندہ اس اسے سے کبھی ۔ زکوۃ نہ لی جائے۔ کیونکہ آپ اسے نشان کے طور پر قائم رکھنا چاہتے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد اُسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ مویشیوں کا ایک بڑا گلہ زکوۃ کے طور پر لے آیا جو اس قدر تھا کہ صحابہ کا بیان ہے جہاں تک نظر جاتی تھی مویشی ہی مویشی نظر آتے تھے مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم سے زکوۃ نہیں لی جائے گی اور وہ روتا ہوا واپس چلا گیا اِسی طرح وہ ہر سال آتا رسول کریم ﷺ اس کی زکوۃ قبول نہ کرتے اور وہ روتا ہوا چلا جاتا۔ حتی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور اُس نے آ کر کہا کہ اب تو میری تو بہ قبول کر لی جائے ۔ مگر آپ نے فرمایا کہ لے جاؤ جسے رسول کریم ﷺ نے قبول نہیں کیا اُسے میں کیسے قبول کر سکتا ہوں ۔ اس کا دستور تھا کہ ہر سال اسی طرح زکوۃ کا مال لاتا اور پھر روتا ہوا واپس چلا جاتا۔ تو کئی لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس مال ہوتا تو یوں کرتے ، یوں کرتے لیکن اُن کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی بڑھا آدمی جو چار پائی پر پڑا ایڑیاں رگڑ رہا ہو ، کہے کہ اگر مجھ میں طاقت ہوتی تو یوں جہاد کرتا۔ اگر ایک کنگال کہے کہ میرے پاس مال ہوتا تو میں یوں قربانی کرتا ۔ تو اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ ضرور ایسا کرتا۔ اس کی سچائی اسی طرح معلوم ہو سکتی ہے کہ جو اُس کے پاس ہے وہ پیش کرے یا جو قربانی اُس کے لئے ممکن ہے اُس کے لئے سامان مہیا کرے۔ قادیان کے ایک شخص کا واقعہ مجھے یاد ہے اس سے جب کسی نے کہا کہ چندہ دیا کرو تو اُس نے کہا کہ قرآن کریم کا حکم قُلِ الْعَفْوَ ہے یعنی جو