خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 702 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 702

خطبات محمود ۷۰۲ سال ۱۹۳۵ء ہیں تو ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم تو جو کچھ ہیں، ہیں ہی تم کیوں ایسا کرتے ہو۔پس ہمارے لئے شرم کا مقام ہے اگر ہم دشمن کو ایسا موقع دیں جو ہماری سچائی پر حرف لانے والا ہو۔اس لئے قانون اور شریعت کے دیئے ہوئے حقوق کا استعمال کرو مگر اخلاق کو نہ چھوڑ و کیونکہ شدید اشتعال کے وقت ہی اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھانے کا موقع ہوتا ہے۔الله تیسری بات یہ ہے کہ اگر دشمن فساد کر دے تو یا د رکھو کہ مؤمن کی قربانی کا مقابلہ اور کوئی شخص نہیں کر سکتا۔رسول کریم ﷺ اور صحابہ کو بیسیوں جنگیں کرنی پڑیں بلکہ سینکڑوں جنگیں پیش آئیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک مسلمانوں نے اُس وقت کی معلوم دنیا قریب قریب ساری فتح کر لی تھی اور اس کے لئے انہیں سینکڑوں لڑائیاں لڑنی پڑیں مگر مسلمانوں کو حقیقی شکست کبھی نہیں ہوئی۔بعض اوقات شکست نما صورتیں پیدا ہوئیں مگر حقیقی شکست کبھی نہیں ہوئی۔مثلاً رسول کریم ﷺ کی زندگی میں دو واقعات ایسے ہیں ایک اُحد کا اور ایک حنین کا جب بظاہر مسلمان میدان سے ہے مگر یہ کبھی نہیں ہوا کہ مسلمان میدان سے ہٹ کر بھاگ گئے ہوں۔الا مَا شَاءَ اللہ سوائے ایک دو کمزور طبیعت لوگوں کے یا ان لوگوں کے جو پیچھے لوگوں کو حالات کی خبر دینا چاہتے تھے۔اُحد کا مقام مدینہ سے نزدیک تھا مگر اُحد کے موقع پر بھی معلوم ہوتا ہے کہ صرف چند آدمی مدینہ میں پہنچے۔مگر ممکن ہے وہ سب کے سب خبر دینے ہی گئے ہوں ورنہ جب کبھی مسلمانوں کے قدم اکھڑے وہ میدان میں ہی اِدھر اُدھر رہے ، بھاگے نہیں۔حنین کے موقع پر بھی صحابہ کے قدم اکھڑے ہیں تو ارادہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ اس جنگ میں دو ہزار کے قریب کا فر بھی شریک ہو گئے تھے اور جب وہ بھاگے تو ان سے ڈر کر صحابہ کے گھوڑے بھی بھاگ پڑے۔ایک صحابی کا بیان ہے کہ ہم سواریوں کی باگیں انہیں روکنے کے لئے اس قدر زور سے کھینچتے تھے کہ ان کے منہ کمر سے آ لگتے تھے مگر جب باگیں ڈھیلی کرتے تو وہ بھاگ اٹھتے یہ صحابہ کا دوڑ نا نہیں کیونکہ سپاہی کا دوڑ نا اُسے کہتے ہیں کہ میدان سے گھوڑا بھاگے تو وہ اسے تیز کرنے کے لئے اور مارے۔مگر صحابہ نے ایسا نہیں کیا بلکہ بعض تو سواریوں سے اتر کر پیدل ہی واپس کوٹ پڑے۔اس لئے یہ شکست نہیں کہلا سکتی مگر جو کچھ بھی ہو صرف یہ دو واقعات ہیں جنہیں شکست کے مشابہہ کہا جا سکتا ہے۔مگر دونوں مواقع پر رسول کریم ﷺ اور آپ کے ساتھ کچھ اور صحابہ کھڑے رہے اور باقی صحابہ بھی میدان سے ہٹ کر چلے نہیں گئے۔پس یہ کبھی نہیں ہوا کہ مسلمان