خطبات محمود (جلد 16) — Page 683
خطبات محمود ۶۸۳ سال ۱۹۳۵ء پسند ہیں اور وہ ملک کے امن کو برباد نہیں کریں گے۔مگر کیا یہ انتہاء درجہ کا ظلم نہیں اور کیا یہ انتہائی ستم اور جو ر نہیں کہ ایک گورنمنٹ اس لئے خاموش رہتی اور اپنے قانون کو حرکت میں نہیں لاتی کہ یہ لوگ ظلم کا بدلہ لینے کے لئے تیار نہیں۔کیا یہ حکومت کے فرائض کو کلی طور پر نظرانداز کرنے کے مترادف نہیں اور کیا اسی طرح ملک میں امن قائم کیا جاتا ہے۔گومیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید کرتا ہوں کہ کوئی احمدی ایسا نہیں کرے گا لیکن اگر خدانخواستہ ان گالیوں کی برداشت نہ کر کے آج نہیں کل کل نہیں پرسوں ، پرسوں نہیں اتر سوں ، ہم میں سے کوئی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لے تو کیا گورنمنٹ کے لئے جائز ہوگا کہ وہ اسے گرفت کرے۔حکومت پنجاب کو خدا تعالیٰ کی حکومت نظر نہیں آتی اور اس کے اوپر اور کوئی دنیوی حکومت ایسی نہیں جو اس سے باز پرس کر سکے کیونکہ نئے آئین سیاسی نے صوبہ جاتی آزادی دے رکھی ہے لیکن اگر اس کے اوپر کوئی عدالت ہوتی اور ہم اُس کے سامنے یہ داستان غم رکھ سکتے تو یقیناً وہ عدالت یہی فیصلہ کرتی کہ اس لیے مسلسل اور پیہم دل آزار، دل شکن ، نا قابل برداشت رویہ کے بعد جو احرار نے احمدیوں کے خلاف جاری رکھا اور حکومت پنجاب نے اس پر متواتر خاموشی اختیار کئے رکھی اس کے بعد اگر کوئی احمدی اپنے قابو سے باہر ہو گیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر اور احرار پر ہے ، اس مظلوم دلفگار احمدی پر نہیں۔پس وہ مجرم نہیں بلکہ مجرم یا حکومتِ پنجاب ہے یا احرار۔اگر گورنمنٹ سمجھتی ہے کہ ان گالیوں کی موجودگی میں صبر سے کام لیا جا سکتا ہے اور انسان اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکتا ہے تو ہم بھی اس کھیل کی احمدیوں کو اجازت دے دیتے ہیں۔احمدی بھی وہی الفاظ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت استعمال کئے جا سکتے ہیں، ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کے بزرگوں کی نسبت استعمال کر کے دیکھ لیں گے اور اُس وقت تک استعمال کرتے چلے جائیں گے جب تک، گورنمنٹ یہ وعدہ نہ کرے کہ اس قسم کے الفاظ پر خواہ کسی بزرگ کی نسبت استعمال کئے جائیں آئندہ گرفت کی جایا کریگی۔یہ کوئی دھمکی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ اگر حکومت پنجاب نے ان گالیوں کے روکنے کا کوئی بندوبست نہ کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی جاتی ہیں تو میں اس روک کو جو میری طرف سے جماعت پر ہے واپس لے لونگا اور اجازت دے دوں گا کہ جو احمدی چاہتا ہے کہ حکومت کے رویہ کو قانونی عدالتوں میں زیر بحث لائے اور دشمنانِ شرافت احرار کو یا دوسرے غیر شریف دشمنانِ سلسلہ کو اُن کے رویہ کی غلطی کا احساس کرائے ،اس پر میری