خطبات محمود (جلد 16) — Page 660
خطبات محمود ٦٦٠ سال ۱۹۳۵ء ہوتا ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جو تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہے ۔ میں حکومت کے رویہ میں ایک نیک تغییر محسوس تو کرتا ۔ تو کرتا ہوں مگر ایسے ہی وقتوں میں انصاف کرنا اور غلطی کا ازالہ کرنا ضرور ہے تا خدا کے فضل کا وارث بنا جا سکے ۔ اللہ تعالیٰ نے حکومت کو ایک رنگ میں تنبیہہ بھی کی ہے جس طرح کہ احرار کو کی ہے ۔ مسجد شہید گنج کا جو قصہ ہوا ہے وہ ایک نشان ہے احرار اور حکومت کے لئے ۔ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ احرار جو کانگرسی ہیں اور حکومت جس کے فوائد ان کے خلاف ہیں وہ دونوں ایک ہی سوال کے متعلق تشویش میں پڑ جاتے ہیں ۔ میں دیکھتا ہوں ابھی یہ سوال دبا نہیں ۔ ابھی چند روز ہوئے لاہور میں ایک مسلمان نے ایک سکھ کو ہلاک کر دیا اور بعض ہندوؤں ، سکھوں کو زخمی کیا۔ لوگ کہتے ہیں وہ مجنون تھا میں کہتا ہوں اچھا یونہی سہی لیکن اگر دلوں میں منافرت نہیں ہے تو جنون میں اسے یہ خیال کیوں آیا کہ سکھوں اور ہندوؤں کو ہی ماروں؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ ہوش کے وقت اُس کے خیالات ہندوؤں سکھوں کے متعلق ایسے پراگندہ تھے کہ جنون میں بھی یہی خیال قائم رہا۔ اور بھی بعض ایسے حالات موجود ہیں اور پیدا بھی ہو رہے ہیں ہمیں ان حالات میں حکومت سے ہمدردی ہے مگر یہ بھی سمجھتے ہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکومت کو تنبیہہ ہے ۔ وہ بتانا چاہتا ہے کہ تم میرے نمائندے ہو اس لئے چاہئے کہ میری طرح انصاف کرو۔ پس یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اُس نے دونوں کو تنبیہہ کی ہے اگر وہ اس سے فائدہ اُٹھا لیں تو بہتر ہے ورنہ خدا کا ہاتھ بہت وسیع ہے ۔ یا د رکھنا چاہیئے کہ ہم نے ان مخالف حالات کو جو ہمارے نقصان کے لئے پیدا ہورہے تھے بدلنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ ہماری قربانیاں کچھ نہیں ہیں اس لئے میں جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ آئندہ خطبات میں میں پھر سکیم کی وضاحت کروں گا اور اسے چاہئے کہ مزید قربانیوں کے لئے تیار رہے اور اب یہ خیال دل سے نکال دے کہ ہم کسی جگہ ٹھہریں گے ۔ تین سال تو پہلا قدم ہے ۔ بعض لوگوں نے مجھے کہا ہے کہ اس تحریک کو آب بند کر دیا جائے کیونکہ چندوں پر بُرا اثر پڑتا ہے لیکن جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کمزوری دکھانے والا یا ٹھہرنے والا خدا تعالیٰ کی راہ پر چلنے کے قابل نہیں ۔ میں نے آج تک کسی کو جا کر نہیں کہا کہ آؤ اور میری بیعت کرو بلکہ میرے سامنے اگر کوئی کسی کو ایسا کہے تو میں اسے روکتا ہوں تا وہی آگے آئے جو خود جان دینے کو تیار ہو ۔ اس