خطبات محمود (جلد 16) — Page 659
خطبات محمود ۶۵۹ سال ۱۹۳۵ء اور آنحضرت ﷺ کی موجودگی میں حضرت ابو بکر کو گالیاں دینے لگا ۔ کچھ دیر بعد حضرت ابو بکر کو بھی غصہ آگیا اور انہوں نے کوئی جواب دیا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ابو بکر ! جب تم خاموش تھے خدا کہہ رہا تھا کہ یہ میرا بندہ مظلوم ہے، میں نے اس کی زبان روکی ہوئی ہے اس لئے فرشتے جواب دے رہے تھے مگر اب تم بولے تو فرشتے خاموش ہو گئے ۔ تو جہاں خدا بندے کو روکتا ہے وہاں خود انتقام لیتا ہے۔ ہو سکتا ہے حکومت کے بعض افسرد ہر یہ ہوں یا بعض دہر یہ تو نہ ہوں مگر زندہ خدا کے قائل نہ ہوں ۔ یا بعض زندہ خدا کے قائل تو ہوں مگر یہ نہ مانتے ہوں کہ اس کا اسلام سے تعلق ہے ۔ یا بعض اس کا تعلق اسلام سے تو اسلام سے تو سمجھتے ہوں مگر یہ نہ مانتے ہوں کہ آ، یہ نہ مانتے ہوں کہ آج احمدیت ہی اسلام کا صحیح نقشہ پیش کر رہی ہے۔ لیکن ان کے خیالات سے خدا کی قدرتوں میں فرق نہیں آ سکتا ۔ اس کی قدرتیں ظاہر ہوں گی اور ضرور ہونگی ۔ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے محتاج نہیں اور مجھے اس امر کی حاجت نہیں کہ حکومت میرا بدلہ لے لیکن میں یہ بات خود حکومت کے فائدہ کے طور پر کہتا ہوں کہ اسے اپنے اس رویہ میں تبدیلی کرنی چاہئے ۔ ہمارے تعلقات اس سے دوستانہ رہے ہیں اور اب بھی ہم رکھنا چاہتے ہیں اس لئے بحیثیت ایک ایسے شخص کے جس نے خدا کی زندہ قدرتوں کا مشاہدہ کیا، جس نے خدا کی مالکیت کا مشاہدہ کیا ، اُس کی ملوکیت کا مشاہدہ کیا حکومت کی خیر خواہی کی غرض سے کہتا ہوں کہ حکومتیں تبھی تک قائم رہ سکتی ہیں جب تک اُن کی بنیاد تقویٰ اور خشیة اللہ پر ہو۔ مذہب اور چیز ہے خشية الله اور چیز ۔ عیسائی ، یہودی ، سکھ اور ہندو بھی خدا سے ڈر سکتا ہے ۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ خدا سے ڈرے کہ اسی میں اس کی کامیابی ہے اور اسے چھوڑنے میں اس کے لئے سرا سر ضر ر ہے ۔ جن افسروں نے جماعت احمد یہ کے وقار کو توڑنے کی کوشش کی اُن کو گرفت کرنی ضروری ہے ۔ بے شک حکومت کہتی ہے کہ اس طرح اس کا پر سٹیج (Prestige) قائم نہیں رہ سکتا مگر اسے یا د رکھنا چاہئے کہ اس سے ایک بالا حکومت کے پر سٹیج کا سوال بھی اب پیدا ہو چکا ہے اور غور طلب امر یہ ہے کہ اگر حکومت کو باوجود اپنے افسروں کے غلطی پر ہونے کے ان کے پر سٹیج کا خیال ہے تو کیا ہمارے خدا کو اپنے خادموں کے پر سٹیج کا باوجود ان کے حق پر ہونے کے خیال نہ ہو گا ؟ ہو گا اور ضرور ہو گا ۔ ان افسروں نے دیکھ لیا ہے کہ وہ سال بھر کی لگا تار کوشش کے باوجود ہمیں بغاوت کی طرف مائل نہیں کر سکے ۔ ہم آج بھی حکومت کے ویسے ہی وفادار ہیں جیسے کہ پہلے تھے اور آئندہ بھی ہم کبھی قانون شکنی نہیں کریں گے مگر معاملہ ہمارے