خطبات محمود (جلد 16) — Page 657
خطبات محمود ۶۵۷ سال ۱۹۳۵ء دیا ہے جیسے کہ کسی شاعر نے کہا ہے سع اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے مگر یہ جو کچھ ہوا تمہاری وجہ سے نہیں ہوا اور نہ ہی اس سے تمہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ حملہ میں کمی آگئی ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے مخالفتوں کے طوفان یکدم نہیں آیا کرتے بلکہ طوفان کے ہر جھونکے کے بعد وقفہ ہوتا ہے۔اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ خدا کے کام ہیں تو چاہئے کہ اپنے اخلاص اور قربانی میں ترقی کرو اور آگے بڑھو جنہوں نے پہلے کوئی کمی کی ہے ، وہ اسے پورا کریں اور جنہوں نے پہلے پورا کیا ہے وہ اضافہ کریں۔اور اُس وقت تک چین نہ لیں جب تک خدا کا وعدہ پورا نہ ہو۔اور یہ میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ خدا کا وعدہ تم میں سے اکثر کی زندگیوں میں پورا ہونے والا نہیں۔اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ یہ ہے کہ اسلام سب دنیا میں پھیل جائے گا، سب حکومتیں اسلامی ہوں گی اور غیر مسلم اس طرح دنیا میں رہ جائیں گے جس طرح آج چھوٹی غیر متمدن اقوام مثلا گونڈ بھیل وغیرہ۔ان عظیم الشان تغیرات کے لئے کہ کفر کو ایمان سے، نفاق کو جرات سے ، جہالت کو علم سے اور بددیانتی کو دیانت سے بدل دیا جائے۔ایک لمبے عرصہ اور متواتر قربانیوں کی ضرورت ہے۔دلائل سے دلوں میں اسلام کی عظمت قائم کرنا معمولی کام نہیں اور یہ کام ایک نسل کا نہیں ہو سکتا۔تمہارے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ اس کی بنیاد رکھوا رہا ہے۔اور اصل عزت اُس وقت قبول کرنے والوں کی ہوتی ہے جب لوگ قبول کرنے سے ڈرتے ہیں۔دنیا میں قاعدہ ہے کہ جو لوگ تجارتی کمپنیاں جاری کرتے ہیں ، ان کو زیادہ حقوق دیئے جاتے ہیں اور بعض کمپنیاں تو کام شروع کرنے والوں کو چند ماہ کی کوشش کے صلہ میں لاکھوں کے حصے مفت دے دیتی ہیں کیونکہ انہوں نے اس وقت کام میں ہاتھ ڈالا جب لوگ گھاٹے سے ڈرتے تھے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی نظر میں بھی تمہاری وقعت زیادہ ہے مگر ضرورت ہے کہ تمہاری قربانیاں مسلسل ہوں۔جھٹکے والی قربانی نہ ہو۔ایسی قربانیاں تو ادنی درجہ کا کیڑا اور جاہل انسان بھی کر لیتا ہے مؤمن کا یہ کام ہے کہ وہ رات دن ایک دُھن کے ماتحت چلتا جاتا ہے۔مخالفت ہو یا نہ ہو ، وہ اپنے کام کو نہیں کھولتا۔یہ چیز تمہارے اندر ہونی چاہئے اور تمہیں دم نہیں لینا چاہئے جب تک کہ فتح نصیب نہ ہو۔جس کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ تم میں سے اکثر کی زندگی میں نہیں ہوگی گویا اِس دنیا میں ہمارے لئے آرام کا کوئی مقام نہیں ہم اپنے بوجھ اپنے آقا کے دربار میں جا کر ہی اُتاریں گے