خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 639

خطبات محمود ۶۳۹ سال ۱۹۳۵ء کی عزت اور خاطر و تواضع کرتے اور حق کی راہ میں لوگوں کے مددگار بنتے ہیں کس طرح ممکن ہے کہ خدا آپ کو چھوڑ دے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان بتاتا ہے کہ عملی زندگی ایسی اہم چیز ہے کہ اس سے ہر دوسرا شخص متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔حضرت خدیجہ مکہ کی تھیں جہاں کے رہنے والے الہام کے قائل نہ تھے۔غیر قوموں مثلاً یہود اور عیسائیوں سے انہیں ملنے کا کہاں موقع تھا۔بے شک حضرت خدیجہ کے ایک رشتہ کے بھائی ورقہ بن نوفل عیسائی تھے مگر وہ بھی ایک گوشہ نشین آدمی تھے تبلیغی آدمی نہ تھے۔غرض اسلام سے پہلے الہام اور اس کی حقیقت سے انہیں کوئی آگا ہی نہ تھی مگر باوجود اسکے وہ اس نکتہ کو بجھتی تھیں کہ اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے لئے اپنی زندگی کو قربان کر دے ، اپنی حیات کی تمام ساعات کو خدا تعالیٰ کے دین اور اُس کے جلال کے لئے وقف کر دے تو اُسے خدا ضائع نہیں کرتا۔كُلًّا وَاللهِ مَا يُخْزِیكَ اللهُ أَبَدًا خدا کی قسم ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا یہ خطرات سب خیالی ہیں خدا آپ کو رسوا نہیں کرسکتا کیونکہ انگ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَصْدَقُ الْحَدِيثَ وَ تَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَ تَقْرِى الضَّيْفَ وَ تُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ۔آپ رشتہ داروں سے حُسنِ سلوک کرتے ،سچائی کو اختیار کرتے اور ان اخلاق کو ظاہر کرتے ہیں جو سارے ملک میں مفقود ہیں۔پھر مہمانوں کی عزت کرتے اور مصیبت زدوں کی امداد کرتے ہیں گویا یہ پانچ باتیں ایسی تھیں جنہوں نے حضرت خدیجہ کے قلب پر اتنا گہرا اثر کیا ہوا تھا کہ وہ خیال بھی نہیں کر سکتی تھیں کہ کبھی خدا آپ کو ضائع کر سکتا ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نسبت بھی آتا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ نے دعوی نبوت کیا تو اُس وقت آپ مکہ میں نہیں تھے بلکہ باہر کسی گاؤں میں گئے ہوئے تھے جیسے ہمارے ہاں گھی وغیرہ لینے کے لئے بعض دفعہ آدمی پاس کے گاؤں میں چلا جاتا ہے۔جب آپ واپس آئے تو آپ ایک دوست کے گھر میں اُسے ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔وہاں باتوں باتوں میں اس کی لونڈی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگی۔ہے! تیرا دوست تو آجکل پاگل ہو گیا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کون؟ اُس نے رسول کریم ﷺ کا نام لیا اور کہا وہ کہتا ہے آسمان سے فرشتے مجھ پر نازل ہوتے ہیں اور خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے۔آپ نے جب یہ بات سنی تو اُسی وقت کھڑے ہو گئے ، چادر جو تھوڑی