خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 638 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 638

خطبات محمود ۶۳۸ سال ۱۹۳۵ء نے مسلمانوں پر اثر نہیں کیا تو آپ اس مذہب سے کیا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ؟ ان باتوں نے اُن کے دل میں کچھ شبہ پیدا کر دیا۔مگر وہ آدمی ہو شیار تھا کہنے لگا عوام الناس کا گر جانا اسلام کی خرابی کی دلیل نہیں۔جب مذہب پر ایک عرصہ گزر جا تا اور تعلیم و تربیت میں کمی آنے لگتی ہے تو ہر مذہب میں اس قسم کے آدمی پیدا ہو جاتے ہیں۔وہ کہنے لگا اچھا اگر عوام کو چھوڑ دیا جائے تو کم از کم کوئی تو اسلام کا نمونہ ہونا چاہئے۔وہ کہنے لگا ہاں یہ ضروری بات ہے۔وہ ہندو کہنے لگا اچھا وہ مولوی صاحب جنہوں نے آپ کو تبلیغ کی ہے وہ تو اسلام کا نمونہ ہیں صرف ایک امتحان کیجئے اگر وہ پاس ہو جائیں تو آپ بیشک اسلام قبول کر لیں وہ کہنے لگا کیا امتحان ؟ ہندو کہنے لگا جب آپ کے مولوی صاحب آئیں تو آپ سو دو سو روپیہ اُن کے آگے رکھ دیں اور اُن سے کہیں کہ مولوی صاحب ! آپ کی خاطر میں نے اپنا مذہب چھوڑنا ہے ، اپنے رشتہ داروں کو چھوڑنا ہے، اتنی باتیں میں نے آپ کی خاطر کرنی ہیں آپ بھی میری خاطر آج ایک دفعہ میرے ساتھ بیٹھ کر شراب پی لیں پھر تو کبھی اس چیز کو ہاتھ نہیں لگانا۔جب وہ مولوی آیا تو سردار دیال سنگھ نے اسی طرح کیا چونکہ مولویوں کی آمدنی کا ذریعہ کوئی اور تو ہوتا نہیں اُس نے خیال کیا کہ ایک دفعہ شراب پینے میں کیا حرج ہے روپے بھی مل جائیں گے اور یہ مسلمان بھی ہو جائے گا اور اس طرح ثواب بھی میرے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا ، بیٹھ گیا اور شراب پی لی۔اُس نے اُسی وقت مسلمان بننے کا ارادہ چھوڑ دیا اور برہموسماجی ہو گیا اور لاکھوں روپیہ کی جائداد ان کے نام وقف کر دی جس سے وہ اب تک فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔تو لوگ صرف منہ کی باتیں نہیں سنتے بلکہ وہ قوت عملیہ کو دیکھتے ہیں اور معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ یہ بنی نوع انسان کے لئے کیا کر رہا ہے۔احادیث میں آتا ہے رسول کریم ﷺ پر جب پہلی دفعہ وحی نازل ہوئی تو آپ یہ دیکھ کر کہ مجھ پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے میں اسے کس طرح ادا کر سکوں گا، گھبرائے اور اپنی اس گھبراہٹ کا حضرت خدیجہ سے ذکر کیا کہ اتنا عظیم الشان کام مجھ جیسا کمزور آدمی کہاں کر سکے گا۔حضرت خدیجہ نے جب آپ کی بات سنی تو چونکہ وہ آپ کے طریق عمل کو جانتی تھیں اس لئے انہوں نے کہا آپ تو یونہی گھبرا رہے ہیں۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو چھوڑ دے۔آپ تو وہ ہیں جو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نہایت اعلیٰ برتاؤ کرتے ہیں ، ہمیشہ سچ بولتے ہیں، لوگوں کے بوجھ بٹاتے ہیں اور آپ نے ان نیک اخلاق کو اپنے اندر جمع کیا ہوا ہے جو زمانہ سے مفقود ہیں۔پھر آپ مہمان