خطبات محمود (جلد 16) — Page 623
خطبات محمود ۶۲۳ سال ۱۹۳۵ء دُنیوی عاشقوں کے قصے جو مشہور ہیں وہ بھی انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں ۔ مشہور ہے کہ مجنوں لیلیٰ کے کوچہ کی طرف گیا تو لیلی کے کتے کو چمٹ گیا ۔ کسی نے کہا گتے کو چوم رہے ہو؟ کہنے لگا گتے کو نہیں بلکہ لیلیٰ کے کتے کو ۔ پھر تعجب ہے انسان دعوئی تو یہ کرے کہ وہ خدا کا عشق اپنے اندر رکھتا ہے مگر اس کی کوئی گرمی اس کی کوئی سوزش ، اس کی کوئی جلن اور اس کا کوئی نشان ظاہر نہ ہو ۔ وہ کیسی آگ ہے جو جلاتی نہیں ، وہ کیسی آگ ہے جو گرمی نہیں پہنچاتی ، وہ کیسی آگ ہے جو دھواں نہیں دیتی ۔ پس مؤمن کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کو مفید ترین بنائے کیونکہ یہی اس کے پیارے خدا کی خواہش اور آرزو ہے۔ دیکھو رسول کریم ﷺ نے مؤمن کی صل عروسه من کی تعریف کیا کی۔ ریف کیا کی ہے ۔ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کے پاس کھجور کا ذکر ہوا اور لوگوں نے کہا یہ کیسا عجیب پھل ہے ۔ جب کچا ہو تب بھی کھایا جاتا ہے اور جب پک 스 جائے تب بھی کھایا جاتا ہے ، خشک ہو تب بھی کھایا جاتا ہے تر ہو تب بھی کھایا جاتا ہے ۔ یہ پھل کا پھل ہے ، غذا کی غذا اور مقوی کا مقوی ۔ اس کا چھلکا بھی کام آتا ہے اور پتا بھی ۔ غرض اس کا درخت ، اسکا پھل ، اس کا پتا سب کچھ کام آتا ہے ۔ رسول کریم ﷺ نے سن کر فرمایا۔ یہ مؤمن کی پھو پھی ہے ۔ مطلب یہ کہ مؤمن کو بھی ایسا ہی بننا چاہئے کہ اُس کا وجود ہر رنگ میں لوگوں کے لئے مفید ہو ۔ وہ بیمار ہو ، تندرست ہو، بوڑھا ہو یا جوان ، چھوٹا ہو یا بڑا ، مصیبت میں ہو یا راحت میں ، ہر حالت اور ہر صورت میں وہ دنیا کے لئے مفید بنے ۔ غرض مؤمن کی یہ علامت ہے کہ اُس کا کوئی وقت بیکار نہ ہو اور یہ یقینی بات ہے کہ جب تک وہ اپنے آپ کو دنیا کے لئے کارآمد نہ بنائے اللہ تعالیٰ کا عاشق نہیں کہلا سکتا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ کئی غلطیاں عادتوں کے ماتحت انسانوں میں پیدا ہو جاتی ہیں جن کی وجہ سے وہ نہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرتے ہیں اور نہ اپنی اولاد کی اصلاح کی طرف ۔ میں نے کئی دفعہ اولاد کی اصلاح کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی ہے مگر کتنے ہیں جو اپنی اولاد پر اس لئے بوجھ ڈالتے ہیں کہ ان کی آئندہ زندگی سنور جائے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ اُستاد اگر بچوں کو ذرا سا بھی جھڑک دے تو ان کے ماں باپ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ ہمارے بچوں پر ظلم کیا گیا ہے ۔ میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ کئی دفعہ ظالمانہ طور پر بھی اُستاد بچوں کو پیٹتے ہیں اور ان کا بچوں کو اس طرح پیٹنا نہ صرف اخلاق اور صحت کے لحاظ سے بلکہ دین کے لحاظ سے بھی مضر ہوتا ہے اور میں اس کو سخت نا پسند کرتا ہوں لیکن