خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 617

خطبات محمود 912 سال ۱۹۳۵ء کے لوگوں کے حالات پر غور کرے گا تو اسے تھوڑے ہی ایسے ملیں گے جو واقعہ میں دوسرے کام پر اپنا اُتنا ہی وقت صرف کرتے ہوں جتنا وہ اپنے بیوی بچوں کے لئے صرف کرتے ہیں یا جتنا وقت صرف کرنا ایک انسان کے لئے ممکن ہے۔عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ چندہ دیا اور چھٹی ہوگئی یا نماز پڑھی اور فرض ادا ہو گیا حالانکہ چندہ تو کل کام کا صرف ایک جزو ہے اور نماز میں خود مؤمن کی بہتری اور روحانی ترقی کے لئے مقرر کی گئی ہیں بھلا قتیموں ، غریبوں اور مسکینوں کو اس سے کیا فائدہ کہ تم نماز پڑھتے ہو یا دوسرے بنی نوع انسان کو کسی کی نماز سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔نماز تو انسان کے اپنے نفع کے لئے مقرر کی گئی ہے اور اس لئے مقرر کی گئی ہے کہ اس کے نتیجہ میں انسان کو خدا تعالیٰ کا ثمر - حاصل ہومگر جو ذمہ داری اس پر عائد کی گئی ہے اور جو یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنا فکر کرے بلکہ دوسروں کا بھی فکر کرے، اُس کی کفالت تو اس سے نہیں ہو سکتی۔اس کی کفالت تو اسی طرح ہو سکتی ہے کہ ہر شخص نہ صرف تمام دنیا کی فلاح و بہبود کا کام اپنے ذمہ لے بلکہ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِتْ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار بھی کرے۔اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کسی کے پاس روپیہ ہو تو وہ دوسروں کو بتائے کہ میرے پاس اتنار و پیہ جمع ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی مفید طاقتوں کو لوگوں کیلئے خرچ کرے مثلاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے علم ملا ہے، عقل ملی ہے ، دولت ملی ہے ، عزت ملی ہے ، رتبہ ملا ہے ان تمام نعمتوں کو وہ لوگوں کی بھلائی کے لئے خرچ کرے۔اگر علم ملا ہے تو لوگوں کو علم سکھائے ، عقل ملی ہے تو لوگوں کو عقل کی باتیں بتائے ، کوئی پیشہ جانتا ہے تو پیشہ سکھائے ، روپیہ ملا ہے تو اسے رفاہ عام کے کاموں میں خرچ کرے۔غرض جب تک یہ روح ہر شخص میں بیدار نہ ہو جائے اُس وقت تک حقیقی آرام میسر نہیں آ سکتا۔مگر یہ دنیا اپنے اندر اتنی کشش اور جذب رکھتی ہے کہ بہت سے لوگ اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی عائد کردہ ذمہ داریوں کی بجا آوری کا خیال نہیں کرتے بلکہ ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اگر انہیں دنیا کے بداثرات سے نجات حاصل ہوتی تو وہ سمجھتے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں جسقدر مفید طاقتیں ملی ہیں انہیں لوگوں کی بہبودی کے لئے خرچ کرنا چاہئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جو زندہ قو میں کہلاتی ہیں ، وہ اپنے کاموں کا کچھ حصہ لوگوں کے لئے وقف کر دیتی ہیں۔ہندوستان میں ہزاروں انگریز نرسیں ایسی ہیں جو ہندوستانی بیمار کی تیمارداری میں ہی اپنی عمر بسر کرتیں ہیں اور اس