خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 605 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 605

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء صرف ڈیڑھ دن کا فاصلہ ہے تمہیں فاقہ کرنا ہو گا تو وہ اس کو منظور کرے گا ؟ اگر ایسے آدمی کے سامنے جو کلکتہ جانے والا ہو یہ بات پیش کی جائے کہ امرتسر میں تجھے پلاؤ کھانے کو ملے گا مگر آگے بھوکا رہنا پڑے گا تو وہ یہی کہے گا کہ مجھے سارے راستہ میں معمولی غذا منظور ہے مگر پہلے اچھا کھانا کھا کر آئندہ کا فاقہ اور مصیبت مجھے منظور نہیں۔پھر اگر انسان یہ سمجھتا ہو کہ اسے ابدی حیات کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہ دنیا محض ایک تیاری کی دنیا ہے جو ایک دائمی زندگی کے لئے جو اس کے بعد آنے والی ہے، اسے تیار کرتی ہے تو وہ کیونکر یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس دنیا کا تھوڑا سا آرام یا تھوڑی سی راحت اسے اگلے جہان پر مقدم ہے اور کب وہ اس زندگی کے سکھ کے مقابلہ میں انگلی زندگی کا نقصان وزیاں برداشت کر سکتا ہے۔درحقیقت یہ ایمان کی کمی ہوتی ہے جو انسان شریعت کو چٹی سمجھتا یا اللہ تعالیٰ کے احکام کو اپنے لئے بوجھ قرار دیتا ہے ورنہ جسے یقین ہو کہ میں ایک دائمی زندگی کے لئے پیدا کیا گیا ہوں وہ اگر اس دنیا میں دُکھ اور تکالیف بھی دیکھے تو انہیں بخوشی برداشت کر لے گا اور کہے گا کہ مجھے دائمی سکھ کی ضرورت ہے عارضی تکالیف کی پرواہ نہیں۔ہماری جماعت جس پر خدا تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ اسے اپنی آواز کے سننے اور اسے قبول کرنے کی توفیق دی ، اس کے لئے اس وقت بڑا نازک موقع ہے پہلی قومیں جو مسلمانوں میں گزریں وہ کہہ سکتی ہیں کہ ہمیں کیا معلوم محمد ﷺ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے کس رنگ میں کلام کیا ،کس طرح اپنی تائیدات سے انہیں نوازا ، کس طرح معجزات ظاہر کئے اور کس طرح اسلام کی شوکت کو بڑھا کر ان کے ایمانوں کو تازہ کیا۔ہم بعد میں آئے اور زمانہ نبوت سے بعد کی وجہ سے ہماری آنکھوں نے وہ بینائی حاصل نہ کی جو قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے حاصل کی تھی لیکن ہماری جماعت خدا تعالیٰ کو کیا جواب دے سکتی ہے۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت سے کہے گا کہ تم میں ایک شخص میری طرف سے آیا تم نے اس سے پیوستگی اور قرب حاصل کیا تم نے اُس کی باتوں کو اپنے کانوں سے سنا اور جنہوں نے اپنے کانوں سے نہ سنا انہوں نے انتہائی قُرب کی وجہ سے اپنے دل کی آنکھوں سے ان باتوں کا مشاہدہ کیا۔کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ شریعت کے احکام کی بجا آوری ایک چٹی اور بوجھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک رحمت اور اس کا انعام ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت کا ایسا سلسلہ جاری کیا کہ اب تک ہماری جماعت کے سینکڑوں آدمی ایسے ہیں جن سے خدا کلام کرتا ہے ایسی حالت میں ہماری جماعت اس