خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 586

خطبات محمود ۵۸۶ سال ۱۹۳۵ء وہ ترقیات جو ترقی کہلانے کی مستحق ہوتی ہیں سب کی سب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہیں اور ان میں انسانی ہاتھ محض دکھاوے کے لئے ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان بھی خوشی محسوس کرے کہ اس نے بھی کوئی کام کیا ہے جیسے ہر شخص جس کے گھر میں بچے ہوں جانتا ہے کہ جب ماں باپ کوئی کام کرنے لگتے ہیں تو بچہ بھی ساتھ شامل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ماں باپ اُس کا ہاتھ بھی لگوا لیتے ہیں اور بچہ اس سے خوش ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کام اُس نے کیا ہے۔مثلاً ماں باپ میز یا کرسی اٹھانے لگتے ہیں تو بچہ دوڑا آتا ہے اور کہتا ہے میں اُٹھاؤں گا۔اس پر ماں باپ اس کا ہاتھ بھی ساتھ لگا لیتے ہیں بچہ خوش ہو جاتا ہے اور ماں باپ اس کی خوشی سے خوش ہوتے ہیں حالانکہ اُٹھانے والے ماں باپ ہی ہوتے ہیں۔اسی طرح حقیقی ترقیات میں کام کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے مگر بندہ کی خوشی دیکھنے کے لئے اُسے کہ دیتا ہے کہ تم بھی ساتھ شامل ہو جاؤ اور بندہ اسی پر خوشی سے ناچنے لگ جاتا ہے کہ میں نے کام کیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے ایسے کاموں میں جو کامیابیاں ہوتی ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ طریق رکھا ہے کہ جیسے کھیتی کاٹنے والا جب کاٹ کر لاتا ہے تو کچھ حصہ خود استعمال کر لیتا ہے اور کچھ پیج کے لئے رکھ چھوڑتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کر رکھا ہے کہ ایسے کاموں میں جو انعام ملے اس میں سے کچھ حصہ پیج کے طور پر رکھ دو۔مگر بات وہی کی ہے جو ماں باپ کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی محبت بندوں سے اُس محبت سے بہت زیادہ ہے جو ماں باپ کو بچوں سے ہوتی ہے بچہ صرف ہاتھ لگا دیتا ہے تو ماں باپ کہتے ہیں کہ بڑا بہادر ہے ہم نے تو صرف مدد کی تھی سب کام تو اس نے کیا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی بندے کی تھوڑی سی محنت کو قبول کرتا ہے اور وہ کام اپنے بندے کے کھاتے میں لکھ دیتا ہے اور اپنے لئے اس کا صرف پانچواں حصہ رکھا ہے۔چنانچہ ان آیات میں جو میں نے اس وقت تلاوت کی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب بھی غنیمت کے طور پر تمہیں کوئی چیز ہاتھ آئے تو سمجھو کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا پانچواں حصہ ہے۔اس طرح بندے کو خوش کیا ہے کہ چار حصہ کامیابی کے تم مستحق ہو باقی جو خدا کا حصہ ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کو نہیں جاتا کیونکہ وہ مادی تعلقات سے پاک ہے صرف اپنے بندے کے ساتھ اپنی شرکت کے اظہار کے لئے فرماتا ہے کہ اس میں چار حصے تمہارے ہیں اور ایک حصہ ہمارا ہے ورنہ وہ حصہ بھی دوسری شکل میں بندے ہی کو دے دیتا ہے۔