خطبات محمود (جلد 16) — Page 535
خطبات محمود ۵۳۵ سال ۱۹۳۵ء کہ مختلف مذاہب کی کتب میں انسانی دست برد ہو گئی پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر مذہب کی تعلیم سے حتی کہ جو زیادہ سے زیادہ بگڑی ہوئی تعلیم ہے ، اس سے بھی تو حید جھانک رہی ہے مثلاً وید ہیں ان میں آگ ، پانی اور عناصر کی پرستش کے متعلق بہت سی تعلیمیں پائی جاتی ہیں مگر با وجود اس کے اگر کوئی شخص اپنے دل کو تعصب سے خالی کر کے وید پڑھے تو اسے اقرار کرنا پڑیگا کہ گو اس کے ظاہری الفاظ میں تو حید دکھائی نہ دے مگر پس پردہ ویدوں میں بھی تو حید جھانک رہی ہے اور اس بات کا ثبوت دے رہی ہے کہ ویدوں کی تعلیم لانے والے اُسی خدا کے بھیجے ہوئے تھے جس نے حضرت موسی ، حضرت عیسی اور حضرت محمد مصطفے ﷺ کو بھیجا۔تو حید کی طرح بعض اخلاقی تعلیمیں بھی ایسی ہیں جو تمام مذاہب میں پائی جاتی ہیں۔یہ ممکن ہے کہ ہندوستان کے کسی سابقہ نبی نے اور قسم کی نمازیں پڑھنے کے لئے کہا ہو، اور قسم کے روزے رکھنے کے لئے کہا ہو ، اور قسم کا حج کرنے کا حکم دیا ہو، اور قسم کے ورثہ کے متعلق تعلیم دی ہو یہ سب کچھ ممکن ہے۔اور دنیا کے مختلف حصوں میں مبعوث ہونے والے نبی ارکانِ دین کے متعلق مختلف قسم کی تعلیمیں دے سکتے تھے مگر وہ حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیھم السلام سے صداقت کے متعلق اختلاف نہیں کر سکتے تھے۔یہ کبھی ممکن نہ تھا کہ ہندوستان کا نبی یہ کہے کہ جھوٹ بولو اور فلسطین کا نبی یہ کہے کہ جھوٹ مت بولو۔- پس ہو سکتا ہے کہ پہلے نبی نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج کی جزئیات میں اختلاف رکھتے ہوں۔مگر یہ ناممکن ہے کہ وہ سچائی دیانت اور امانت کے متعلق آپس میں اختلاف رکھتے ہوں۔پہلا الہام جب دنیا پر نازل ہوا تو وہ یہی تعلیم لے کر آیا کہ سچ بولو جھوٹ سے پر ہیز کر و۔دیانت اور امانت سے کام لو ظلم اور تعدی سے بچو اور وہ آخری شریعت کی آواز جو مکہ سے خدا تعالیٰ نے بلند کی اس میں بھی لوگوں سے یہی کہا گیا کہ سچ بولو، دیانت پر قائم رہو اور ظلم و تعدی سے بچو۔انسانی حالات بدلے قو میں بدلیں ، تعلیمات بدلیس، تفصیلات بدلیں مگر یہ چیز نہ بدل سکی اور نہ بدل سکتی تھی جیسا کہ تو حید نہیں بدل سکتی۔پس وہ تعلیم جس پر تمام انبیاء بنی نوع انسان کو چلاتے آئے اگر کوئی قوم اس تعلیم کو چھوڑتی اور انبیاء کے تسلیم شدہ قانون کو توڑتی ہے تو وہ اس کے خمیازہ سے کبھی بچ نہیں سکتی۔وہ تعلیمات ایک قانون کی طرح ہوتی ہیں جس طرح قانونِ قدرت کی خلاف ورزی کرنے والا طبعی سزاؤں سے نہیں بچ سکتا اور انہیں تو ڑنے والا اپنے کئے کی سزا پاتا ہے اسی طرح ان تعلیمات کا توڑنا بھی ایک زہر ہوتا