خطبات محمود (جلد 16) — Page 529
خطبات محمود ۵۲۹ سال ۱۹۳۵ء تَأْتِي إِلَيْكَ الرُّوحُ كَالدُّخَانِ یعنی انسان کی روح دُھوئیں کی طرح تیری طرف آتی ہے۔دوسرا مصرعہ مجھے یاد نہیں رہا لیکن اس کا مطلب یہ تھا کہ تو جب اسے چھو دیتا ہے تو وہ سورج کی طرح یا سورج سے بھی زیادہ روشن ہو جاتی ہے۔پس چاہئے کہ انسان خواہ کوئلہ کی گیس بن کر اُڑے مگر اُڑے ضرور ، پھر جہاں بھی آگ ہو گی اُسے لے لے گی۔ضرورت کوشش کی ہوتی ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے روشن بنادیتا ہے۔انسانی روح میں اللہ تعالیٰ نے یہ مادہ رکھا ہے کہ جب وہ تَأْتِي إِلَيْكَ الرُّوحُ كَالدُّخَانِ پر عمل کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نور بخش دیتا ہے۔ایک انسان گناہوں میں مبتلاء ہوتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں نے اب رات کو دن سے بدلنا ہے وہ گیس کی طرح اڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور جا گرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے چھوتا ہے اور وہ سورج کی طرح چمکنے لگتا ہے۔اسی کی طرف قرآن کریم کی اس آیت میں اشارہ ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ کو نیا میں سب روشنیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں۔باقی سب دُھواں ہی دُھواں ہے۔اور جب دُھواں اللہ تعالیٰ کے قریب جا پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ جھٹ اسے روشنی سے بدل دیتا ہے کئی لوگوں نے اس کا تجربہ کیا ہو گا کہ جب شمع کو یا لیمپ کو پھونک مار کر بجھاؤ تو اس میں سے جو دُھواں اس وقت نکلتا ہے اگر اُسی وقت اُسے دیا سلائی دکھائی جائے تو بتی کو دیا سلائی لگے بغیر بتی جل جاتی ہے اور آگ کسی قدر فاصلہ سے ہی اسے پکڑ لیتی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ دھواں روشنی سے بدلنے کی قومی طاقت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو تاریک روحوں کو بھی روشن کر دیتا ہے۔ضرورت صرف استقلال کی ہوتی ہے اس لئے چاہئے کہ جو زندہ روحیں ہیں وہ اور بھی زندگی اپنے اندر پیدا کریں اور جو مُردہ ہو چکی ہوں وہ مایوس نہ ہوں۔جب تک ہمارے دوستوں کے اندر یہ روح پیدا نہ ہوگی کامیابی محال ہے مگر میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہمارے دوستوں کے اندر یہ مرض ابھی تک باقی ہے۔گزشتہ سال کے خطبات کے بعد میں سمجھتا تھا کہ اب کئی سال تک جماعت کو جگانے کی ضرورت پیش نہ آئے گی مگر ابھی آٹھ ماہ ہی گزرے ہیں کہ سستی پیدا ہونے لگی ہے۔ایک دو ہی دن ہوئے میں نے ایک رنگ میں بات کی تھی مگر ناظر صاحب بیت المال نے خیال کیا کہ میں نے کہا ہے کہ میں