خطبات محمود (جلد 16) — Page 515
خطبات محمود ۵۱۵ سال ۱۹۳۵ء جاتی ہے مثلاً ایک قانون تو یہ ہے کہ گورنمنٹ کہتی ہے قتل مت کرو یا چوری نہ کرو۔یہ واضح بات ہے جس میں کسی تشریح کی ضرورت نہیں لیکن بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں گورنمنٹ خود فرق کرتی ہے اور ان کے متعلق جوں میں اختلاف بھی ہو جاتا ہے مثلاً وہ کہہ دیتی ہے کہ کوئی قوم کسی دوسری قوم کی مذہبی دل آزاری نہ کرے ہاں ایک دوسرے کا رڈ کرنے کا ہر ایک کو اختیار ہے جو دل آزاری کرے گا ہم اسے پکڑ لیں گے۔گویا ایک ہی فعل کے دو حصے کر دیئے گئے ہیں ایک حصہ جائز ہے اور ایک حصہ نا جائز۔درمیان میں کوئی حد فاصل ایسی نہیں کہ جس کا ہر شخص کو قطعی طور پر علم ہو سکے۔بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص جوش کی حالت میں درمیانی لکیر کو پھاند جائے اور اسے محسوس تک نہ ہو اور وہ یہی یقین کرے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں جائز طور پر کر رہا ہوں۔ایسی حالت میں اس کا فعل قانون کے خلاف تو ہو جاتا ہے مگر قانون شکنی نہیں کہلا سکتا وہ سزا کا مستحق بھی ہو جاتا ہے مگر قانون شکن نہیں کہلاتا۔شریعت میں بھی اسکی مثال موجود ہے مثلا روزوں کے ایام میں پو پھٹتے وقت اگر کوئی شخص کھانا کھالے اور اسے یہ خیال ہو کہ ابھی پونہیں پھٹی تو اسکا روزہ ہو جائے گا لیکن اگر شام سے ذرا بھی پہلے وہ روزہ افطار کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فقہاء لکھتے ہیں کہ پوایسے طور پر پھٹتی ہے کہ اس کے ابتدائی وقت اور اس سے پہلے کے رات کے حصہ کے آخری وقت میں کوئی قطعی فرق بتایا نہیں جاسکتا اور یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ فلاں لمحہ یا فلاں سیکنڈ سے پو پھٹی ہے لیکن سورج کا ڈوبنا ایک ایسا امر ہے کہ اس کے بارہ میں کوئی شبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔پس شام کے وقت اگر کوئی شخص غلطی سے روزہ کھول لے حتی کہ بادل چھا جانے کی وجہ سے ہی کھول لے تب بھی اُس کا روزہ ٹوٹ جائیگا لیکن اگر صبح پو پھٹ آتی ہے اور وہ دیانتداری سے سمجھتا ہے کہ ابھی پو پھٹی نہیں تو اس کا روزہ ہو جاتا ہے۔تو جس قانون کے دو حصے ہوں اور ایک حصہ انسانی اجتہاد کے ساتھ تعلق رکھتا ہو ان میں سے اجتہاد والے حصہ کی خلاف ورزی کرنے والا قانون شکن نہیں کہلا سکتا۔مثلاً جو چوری کرے گا اسے قانون بالکل اور نگاہ سے دیکھے گا لیکن وہ جو کسی کی ہتک کرتا ہے اسے قانون اور نظر سے دیکھے گا اور زیادہ واضح ثبوت ہتک کا چاہے گا یا مثلاً اسی امر کو لے لو اگر گورنمنٹ قوم کے بزرگوں کے احترام کے متعلق اپنے قانون کو نہ بدلے یا دونوں فریق کو گرفت نہ کرے تو پھر ہمارے دوست اگر ایسے حوالے شائع کریں جو غیر اقوام نے اپنے مخالفوں کی نسبت لکھے ہیں اور گورنمنٹ انہیں گرفتار کرنے لگے تو یہ ہرگز