خطبات محمود (جلد 16) — Page 513
خطبات محمود ۵۱۳ سال ۱۹۳۵ء شریعت کی حدود کے اندر ہوں ، دو باتوں میں سے ایک نہ ایک بات کرے یا تو حکومت کو مجبور کرے کہ وہ ایسے افسروں کو سزا دے یا ایسے طریق اختیار کرے کہ یہ معاملہ بالکل کھل جائے کہ حکومت اپنے افسروں کی رعایت کر رہی ہے اور احمدیوں کی حق تلفی کر رہی ہے۔دونوں امور میں سے ایک امر حق کرنا ضرور نیشنل لیگ اختیار کرے۔یا تو قانون کے مطابق ان افسروں کو حکومت سے سزا دلوانے کی کوشش کرے کیونکہ جیسے وہ حکام ہمارے مجرم ہیں اسی طرح حکومت کے بھی مجرم ہیں۔حکومت افسروں کو اس لئے مقرر کیا کرتی ہے کہ وہ مظلوم کی مدد کریں مگر جب وہ ظالم کی مدد کر رہے ہوں تو وہ حکومت کے بھی ویسے ہی مجرم ہیں جیسا کہ لوگوں کے، اور کوئی وجہ نہیں کہ حکومت ان کو سزا نہ دے لیکن اگر وہ سزا نہ دے تو ایسا طریق اختیار کر وجو دنیا پر ثابت کر دے کہ تم حق پر تھے مگر حکومت نے تمہارا حق ادا نہیں کیا اور وہ یہ ہے کہ مختلف امور کے متعلق عدالتوں میں مقدمات لے جاؤ اور ہائی کورٹ اور پر یومی کونسل تک ان مقدمات کو چلاؤ یہاں تک کہ یہ امر ثابت ہو جائے کہ حکومت پنجاب نے بعض غیر منصف حکام کے متعلق ناجائز طرفداری کا طریق اختیار کیا ہے۔پس ایک تو وہ گالیاں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی جاتی ہیں ان کا ازالہ کرایا جائے ، مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کا ازالہ کرایا جائے، تیسرے ان افسروں کے معاملہ پر توجہ کی جائے جنہوں نے سلسلہ کی شدید ہتک کی ہے۔ان تین معاملات میں نیشنل لیگ کو کوشش کرنی چاہئے۔مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کے متعلق تو میں نے بتایا ہے کہ اس کے لئے قانونی رستہ گھلا ہے۔ہمیں حکومت سے شکوہ ان باتوں میں ہے جن میں گورنمنٹ کچھ کر سکتی ہے مگر وہ کرتی نہیں۔یا تو گورنمنٹ یہ قانون بنا دے کہ جس مذہب کے پیشوا کی ہتک کی جائے ، اس کے پیرو دوسرے پر خود مقدمہ دائر کر دیں اور اگر یہ قانون بن جائے تو ہمیں گورنمنٹ پر کوئی اعتراض نہ ہو ہم خود لوگوں پر مقدمات کرتے رہیں لیکن گورنمنٹ ایسے امور میں لوگوں کو مقدمہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی اس لئے ہم مجبور ہیں کہ حکومت پر زور دیں کہ وہ خود انصاف سے کام لے۔میں نے اُن دنوں جب یہ قانون تبدیل ہونے والا تھا شملہ میں بڑی کوشش کی کہ قانون اس رنگ کا بنے کہ تمام اقوام کے بزرگوں کی عزت محفوظ ہو جائے۔مجھے یہی خطرہ نظر آتا تھا کہ جب کسی قوم کے بزرگ کی ہتک کی گئی گورنمنٹ نے سیاسی مصالح کو دیکھنا ہے اور قلیل التعداد جماعتوں کی ہتک کرنے والے پر مقدمہ نہیں کرنا یا بہت کم کرنا ہے اور اس طرح فساد