خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 475

خطبات محمود ۴۷۵ سال ۱۹۳۵ء کے کام اس کے سپرد کئے جا سکتے ہیں۔اور ہم پہلے سے زیادہ اختیارات نیشنل لیگ کو دینے کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ اس کے پانچ ہزار ممبر بن جائیں۔جب پانچ ہزارممبر بن جائیں گے اور مجھے اس کی اطلاع مل جائے گی ، اُس وقت انہیں زیادہ وسیع پیمانے پر کام کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔کئی لوگ یہ بھی شکوہ کرتے ہیں کہ سلسلہ کے افسر نیشنل لیگ کے کاموں میں دخل دیتے ہیں اور کہتے رہتے ہیں یہ نہ کرو وہ نہ کرو۔میرے نزدیک گو ایک حد تک جماعت کے اعلیٰ کا رکنوں کا نیشنل لیگ کے کاموں میں دخل دینا جائز اور درست ہو سکتا ہے جیسے اگر نیشنل لیگ کسی وقت قانون کی خلاف ورزی کرنے لگے تو وہ اسے روک سکتے ہیں لیکن عام طور پر نیشنل لیگیں سلسلہ کے افسروں کے ماتحت نہیں۔میں اعلان کر چکا ہوں کہ میں بھی نیشنل لیگ کے کاموں میں دخل نہیں دوں گا سوائے اس کے کہ کھلے طور پر دیکھوں کہ قانون ملکی کوتوڑا جار ہا یا قانون شریعت کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔پس جب تک کفر بواح سے اس میں نہ پایا جائے اور بغاوت بواح اس میں نہ پائی جائے ، میں بھی نیشنل لیگ کے کاموں میں دخل نہیں دوں گا ، کجا یہ کہ کوئی ناظر دخل دے۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ باوجود اس کے کہ نیشنل لیگ والوں کو ہم نے آزاد رکھا ہوا ہے، پھر بھی وہ ہم سے مشورہ لینے کے خواہشمند رہتے ہیں حالانکہ انہیں اپنی عقل و سمجھ سے کام لے کر خود نئی نئی تجاویز سوچنی اور نئے نئے طریق کار معلوم کرنے چاہئیں۔اصول میں نے بتا دیئے ہیں کہ قانون شکنی نہ کرو اور شریعت شکنی نہ کرو اور ان دونوں پابندیوں کے ساتھ سلسلہ کی حفاظت کے لئے پوری پوری کوشش کرو۔بے شک اس کے لئے اگر دیگر انجمنوں کو تمہیں اپنے ساتھ ملانا پڑے تو ملالو اور اگر خودان انجمنوں میں سلسلہ کی بہبودی کے لئے ملنا چاہو تو مل جاؤ۔پھر اپنے لٹریچر کے ساتھ ، جلسوں کے ساتھ اور تنظیم کے ساتھ نیشنل لیگ کو مضبوط بناؤ۔سکھوں اور ہندوؤں اور غیر قوموں کی بھی بے شک تنظیم کرو۔ان امور میں ہم سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔اگر ہمیں ان کاموں کے لئے فرصت ہوتی تو اس کام کو علیحدہ کرنے کی ضرورت کیا تھی۔علاوہ ازیں میری مذہبی ذمہ داریاں مجھے اجازت نہیں دیتیں کہ میں ایسے کاموں میں حصہ لوں۔کشمیر کے کام کے بعد میں نے دل میں اقرار کیا تھا کہ میں آئندہ حتی الوسع کسی ایسے کام میں حصہ نہیں لوں گا کیونکہ اُن دنوں میں نے دیکھا کہ سلسلہ کے دوسرے کاموں کے لئے میرے پاس بہت کم وقت بچتا تھا پھر آخر میں انسان ہوں اور ساری دنیا کے کام نہیں کر سکتا۔کام تبھی چل سکتا ہے کہ بعض قسم کے کام سنبھالنے کے لئے ہماری